لاہور (پنجاب پوسٹ) پنجاب اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی ترمیمی بل 2026 پر اراکین کے درمیان شدید اختلافات سامنے آگئے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے رکن پنجاب اسمبلی سردار اویس دریشک کی جانب سے بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کو چیریٹی یعنی فلاحی ادارہ قرار دینے کے لیے ترمیمی بل پیش کیا گیا۔
بل پر بحث کے دوران کمیٹی اراکین نے تجویز کی شدید مخالفت کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ فیس کی مد میں اربوں روپے وصول کرنے والے ادارے کو فلاحی ادارہ کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔
اراکین کا کہنا تھا کہ بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کو چیریٹی ادارہ قرار دیے جانے سے اسے ٹیکس سمیت مختلف مالی فوائد حاصل ہونے کا امکان ہے، جبکہ بین الاقوامی اداروں سے فنڈنگ حاصل کرنے کی راہ بھی ہموار ہوسکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں بل کی منظوری کے لیے اراکین پر دباؤ ڈالنے کی کوشش بھی کی گئی، تاہم اراکین کی شدید مخالفت کے باعث بل منظور نہ ہوسکا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا تعلیمی نظام یورپ میں 5 برس سے نمبر ون پر کیسے ہے؟
اجلاس کی کارروائی کی ریکارڈنگ پر پابندی کے معاملے پر بھی اراکین نے تحفظات کا اظہار کیا، ذرائع کے مطابق کمیٹی کی کارروائی کو ریکارڈ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بل کے حوالے سے بعض طاقتور حکومتی شخصیات کے نام بھی زیرِ گردش ہیں، تاہم اس حوالے سے کسی حتمی کردار کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
شدید بحث اور مخالفت کے بعد پنجاب اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس سوموار تک ملتوی کردیا گیا، بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی ترمیمی بل 2026 پر آئندہ اجلاس میں مزید غور کیا جائے گا۔










