لاہور (پنجاب پوسٹ) ایڈیشنل سیشن جج کبیروالا سجیدہ اختر کا بڑا فیصلہ قتل کے مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر ملزم مشہد عباس کو سزائے موت اور 10 لاکھ جرمانہ کی سزا کا حکم سنا دیا جبکہ دیگر نامزد خواتین ملزمان کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر بری کر دیا گیا۔
کبیروالہ کی مقامی عدالت نے قتل کے سنگین مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے جرم ثابت ہونے پر ملزم کو سزائے موت اور 10 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی جبکہ دیگر نامزد خواتین ملزمان کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر بری کر دیا گیا ۔
ایڈیشنل سیشن جج کبیروالہ محترمہ سجیدہ اختر نے تھانہ حویلی کورنگا کبیروالہ کے مقدمہ قتل پر سماعت کی عدالت نے وکلاء کے دلائل گواہان کے بیانات اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ملزم مشہد عباس ولد غلام عباس ہراج کو مجرم قرار دیے دیا عدالتی فیصلے کے مطابق ملزم مشہد عباس کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت کی سزا سنائی گئی ہے۔
مجرم کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ مقتول کے قانونی ورثاء کو دس لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرے۔عدم ادائیگی کی صورت میں مجرم کو مزید 6 ماہ سادہ قید بھگتنی ہوگی۔عدالت نے اپنے حکم نامے میں واضح کیا ہے کہ مجرم کی تمام سزائیں بیک وقت شروع ہوں گی۔عدالت نے وارنٹ قید جاری کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل خانیوال کو حکم دیا ہے کہ وہ مجرم کو اپنی تحویل میں لے کر سزا پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔











