فیلڈ مارشل عاصم منیر کے چھکے!

تحریر : اکرام راجہ

پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وہ کر دکھایا ہے جو کوئی نہیں کر سکتا تھا۔ اسرائیل کے لبنان پر حملے رکوا دئیے اس کے باوجود کہ پاکستان کے اسرائیل کیساتھ کوئی تعلقات نہیں۔ جبکہ آبنائے ہرمز بھی مکمل کھول دیا گیا ہے۔ جی ہاں، تہران میں عاصم منیر کی اعلی ایرانی قیادت سے ملاقاتیں نتیجہ خیر ثابت ہوئیں اور بالآخر ایران نے آبنائے ہرمز کھول دیا۔
گلوبل سفارتی و سیاسی محاذ پر پاکستان کی یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نہایت سمجھداری سے ٹرمپ سے اپنی بے تکلفی کا فائدہ اٹھایا۔ ٹرمپ کے ذریعے نیتن یاہو کے ہاتھ باندھے۔ اسے جنگی اہداف حاصل کئے بغیر اپنی فوج کو لبنان پر مزید حملے بند کرنے پڑے۔ نیتن یاہو کیساتھ نریندرا مودی والا سین ہو گیا۔ نیتن یاہو نے ابھی اپنی کابینہ سے سیز فائر کی منظوری بھی نہیں لی تھی کہ جناب ٹرمپ نے عجلت میں وائٹ ہاؤس سے سیز فائر کا اعلان کر دیا جس پر نیتن یاہو کو اسرائیل کے اندر سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ایران اور لبنان کی جنگ بندی پر نیتن یاہو کو سخت اور ناقابل تلافی سیاسی نقصان ہوا ہے۔ ممکن ہے مستقبل قریب میں اقتدار سے بھی جانا پڑ جائے۔
پاکستان کے فیلڈ مارشل نے مودی کے بعد مودی کے دوست کو بھی سبق سکھا دیا وہ بھی بغیر ہتھیاروں کے۔
کل تک پوری دنیا کے تجزیہ کار برملا کہہ رہے تھے کہ نیتن یاہو پاکستانی ثالثی نہیں ہونے دے گا۔ ہندوستانی میڈیا اور مودی سرکار نے بھی بھرپور مہم چلائی کہ پاکستانی ثالثی کسی صورت کامیاب نہ ہو پائے۔ مگر پاکستان کی زبردست سفارتکاری نے نیتن یاہو اور مودی کے خواب چکنا چور کر دئیے۔


یاد رکھیں پاکستان نے صرف جنگ ہی نہیں روکی بلکہ خطے کی جیو پولیٹیکل گیم ہی بدل دی۔ اسرائیل جو مڈل ایسٹ کا بدمعاش تھا، اسے اب اپنی برابری پر ایران کی چودھراہٹ کو بھی مان کر جینا ہو گا۔ آئندہ غزہ پر بمباری سے پہلے خوب سوچے گا۔ صرف ایران ہی نہیں پاکستان بھی اب مڈل ایسٹ میں باضابطہ طور پر داخل ہو چکا ہے۔ ماضی میں پاکستان کی حیثیت محض واحد اسلامی ایٹمی طاقت اور برادر اسلامی ملک ہونے کی تھی مگر اب پاکستان نے خطے کے ممالک بالخصوص سعودی عرب کو امریکی اثر سے نکال کر اور سعودی عرب کے دفاع کو پاکستانی شاہینوں کے ٹھیکے میں لا کر خود کو خطے میں براہ راست داخل کر دیا ہے۔ یہی نہیں پاکستان نے خلیجی ممالک کو فل سکیل جنگ میں کودنے سے بھی روکا۔ وہ ممالک جنہیں لگتا تھا امریکہ سکیورٹی ضامن ہے، برے وقت میں پاکستان کام آیا۔
صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔ یہ خطہ نئے ڈائنامکس بنا رہا ہے اور پاکستان نئے ڈائنامکس میں فرنٹ رنر ہے۔ پاکستان کو ابھی محتاط رہنے کی ضرورت ہو گی۔ پالیسی سازوں کو صرف جنگ بندی کے موقع پر ایکٹو ڈپلومیسی کی بجائے مستقل مزاجی سے مڈل ایسٹ پر آنے والے سالوں، دہائیوں کام کرنا ہو گا۔ ہمارے پالیسی سازوں کیلئے مڈل ایسٹ میں بھارتی اثر و رسوخ کو ختم کرنا اگلا بڑا مشکل ہدف ہو گا۔ ایران کیساتھ جو سفارتی گرمجوشی بنی ہے۔ اسے قائم رکھنا ہوگا۔ سعودی عرب اور ایران بھی، یوں ہی بیلنس بنائے رکھنا ہو گا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے