عید میلادالنبی ﷺ کے موقع پر جلوس، محافل اور سکیورٹی کے کیا انتظامات ہوں گے؟ پنجاب حکومت نے پلان جاری کردیا

لاہور (پنجاب پوسٹ) پنجاب حکومت نے عید میلادالنبی ﷺ کے موقع پر صوبہ بھر میں جامع سکیورٹی پلان جاری کردیا۔ عید میلادالنبی ﷺ 12 ربیع الاول بمطابق 26 اگست 2026 کو منائی جائے گی، تمام اداروں اور اہلکاروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

تمام اجازت یافتہ جلوسوں، محافل میلاد اور قرآن خوانی کی محافل کے لیے پولیس نفری تعینات ہوگی، جبکہ سکیورٹی انتظامات محرم الحرام سے کم نہ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ بڑی محافل کے داخلی و خارجی راستوں پر واک تھرو گیٹس اور میٹل ڈیٹیکٹرز جبکہ ملحقہ گلیوں میں ناکہ بندی ہوگی۔

خواتین شرکاء کے لیے خواتین پولیس اہلکار تعینات ہوں گی، حساس روٹس پر سنائپرز اور سادہ کپڑوں میں اہلکار موجود ہوں گے۔ جلوسوں کی میپنگ، پولیس پٹرولنگ میں اضافہ، ہنگامی خارجی راستوں کی نشاندہی اور اہم محافل و جلوسوں کی ویڈیو و آڈیو کوریج یقینی بنائی جائے گی۔

جلوسوں اور محافل کے گردونواح سے تعمیراتی ملبہ ہٹایا جائے گا، جبکہ راستوں میں موجود بازار اور دکانیں مکمل چیکنگ کے بعد بند رہیں گی۔ حساس روٹس پر اضافی سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرکے سیف سٹی مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک کیے جائیں گے۔

متعلقہ ایس ایچ اوز منتظمین سے سکیورٹی انتظامات کا تحریری سرٹیفکیٹ لیں گے، جبکہ پولیس اہلکاروں کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ پولیس کی معاونت کے لیے رضاکار تعینات ہوں گے، جن کی سپیشل برانچ سے مکمل کلیرنس لازمی ہوگی۔

لاؤڈ اسپیکر کے غیر قانونی استعمال، وال چاکنگ، نفرت انگیز تقاریر، ہوائی فائرنگ اور اسلحے کی نمائش پر پابندی پر سختی سے عملدرآمد ہوگا۔ معروف علماء اور مذہبی رہنماؤں کی سکیورٹی پر خصوصی توجہ دی جائے گی، جبکہ اہم مقامات پر پولیس ناکے بھی لگائے جائیں گے۔

فوڈ سیفٹی آفیسرز سبیل اور لنگر کی جانچ یقینی بنائیں گے۔ مرکزی جلوسوں کے گرد ٹریفک کی روانی اور متبادل ٹریفک پلان بنایا جائے گا، جبکہ پارکنگ محفوظ فاصلے پر ہوگی۔ بجلی کی بلا تعطل فراہمی، مناسب روشنی اور جنریٹرز کے لیے واپڈا اور ڈسکوز سے کوارڈینیشن کی جائے گی۔

بم ڈسپوزل سکواڈ اور فائر بریگیڈ مکمل فعال رہیں گے، جبکہ ہسپتال ہائی الرٹ، ریسکیو 1122، فیلڈ ہسپتال اور کلینکس آن ویل تعینات ہوں گے۔ مرکزی جلوسوں پر ایمبولینس، فرسٹ ایڈ کیمپس اور پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

آئی جی پنجاب روزانہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز، سرچ آپریشنز اور سرپرائز چیکنگ کی تفصیلات محکمہ داخلہ کو بھجوائیں گے، جبکہ سی ٹی ڈی انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز میں مرکزی کردار ادا کرے گی۔ عبادت گاہوں، چینی باشندوں اور دیگر غیر ملکی شہریوں کی سکیورٹی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

ڈپٹی کمشنرز، ڈی پی اوز، کمشنرز اور آر پی اوز تمام انتظامات کی نگرانی کریں گے۔ انٹیلیجنس، امن اور تحصیل مساجد کمیٹیوں کے اجلاس بلائے جائیں گے، جبکہ امام مسجد صاحبان سے رابطے بہتر بنا کر انہیں ’’پارٹنر ان پیس‘‘ بنایا جائے گا۔

فورتھ شیڈولرز اور کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کی کڑی نگرانی اور پابندیوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ کے لیے میڈیا کا مؤثر استعمال کیا جائے گا۔

ضلعی کنٹرول رومز 24/7 فعال رہیں گے اور مرکزی کنٹرول روم سے منسلک ہوں گے، جبکہ انتہا پسندی، فرقہ واریت اور امنِ عامہ کے خلاف مواد کی روک تھام کے لیے سائبر مانیٹرنگ ہوگی۔

ستھرا پنجاب صفائی کے انتظامات یقینی بنائے گا اور جلوسوں کے راستوں میں ترقیاتی کام بروقت مکمل کیے جائیں گے۔ تمام ڈپٹی کمشنرز، سی سی پی او، سی پی اوز اور ڈی پی اوز ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کا جامع منصوبہ محکمہ داخلہ کو بھجوائیں گے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے