پنجاب میں انگریز دور کی جبری مشقت آج بھی جاری، لاہور ہائیکورٹ میں 15 مزدور مرد و خواتین پیش

لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ میں زمیندار کی قید سے مزدوروں کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی، عدالتی حکم پر پولیس نے زمیندار کی مبینہ قید سے 15 مزدور مرد و خواتین کو بازیاب کراکے عدالت میں پیش کردیا۔

جسٹس صادق محمود خرم نے امینہ بی بی کی درخواست پر سماعت کی۔ صدر بانڈڈ لیبر یونین ممتاز ظہور مزدوروں کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئیں۔

ممتاز ظہور نے عدالت کو بتایا کہ ڈینگہ کے علاقے میں زمیندار گل شیر نے درخواست گزار کے رشتے داروں کو قید کر رکھا ہے۔ زمیندار شاہد اور عامر نے بھی خواتین اور مرد مزدوروں کو قید کر رکھا ہے۔

صدر بانڈڈ لیبر یونین کے مطابق مزدوروں کو دو سال سے نہ تو مزدوری دی گئی ہے اور نہ ہی ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا گیا، بلکہ انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔

ممتاز ظہور نے عدالت سے استدعا کی کہ مغوی مزدوروں کو بازیاب کراکے انہیں رہائی دلائی جائے۔

عدالتی حکم پر پولیس نے 15 مزدوروں کو بازیاب کراکے عدالت میں پیش کیا، جس کے بعد عدالت نے مرد اور خواتین مزدوروں کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے