فوزیہ بی بی قتل کیس ہائی پروفائل قرار، پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کی تفتیشی افسر کو اہم ہدایات

لاہور(پنجاب پوسٹ)رحیم یار خان کے تھانہ ظاہر پیر کی حدود میں فوزیہ بی بی کو مبینہ طور پر قتل کرنے کے بعد واقعہ کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کے معاملے نے اہم رخ اختیار کر لیا ہے۔ مقتولہ کے سسر کی جانب سے 15 پر اطلاع دینے کے بعد واقعہ کی نوعیت مشکوک ہونے پر پولیس نے تفتیش شروع کی۔

پراسیکیوٹر جنرل پنجاب چوہدری عرفان صادق تارڑ نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے فوزیہ بی بی قتل کیس کو ہائی پروفائل کیس قرار دے دیا۔ انہوں نے تفتیشی افسر کو طلب کرکے مقدمے کی تفتیش کے حوالے سے اہم ہدایات جاری کیں۔

پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے ہدایت کی کہ مقدمے کی تفتیش ہر پہلو سے میرٹ، شفافیت اور جدید سائنسی و فرانزک اصولوں کے مطابق کی جائے اور کسی بھی ممکنہ پہلو کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ انہوں نے تمام دستیاب فرانزک، میڈیکل اور دیگر سائنسی شواہد فوری طور پر اکٹھے اور محفوظ کرنے کی ہدایت بھی کی۔

چوہدری عرفان صادق تارڑ نے کہا کہ جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد، فرانزک رپورٹس، میڈیکل شواہد اور گواہان کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے، جبکہ واقعہ کو مبینہ طور پر خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کے پہلو کو بھی تفتیش کا اہم حصہ بنایا جائے۔

انہوں نے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ مقدمے کی تفتیش بلاوجہ طول نہ پکڑے اور تمام شواہد کی روشنی میں میرٹ پر چالان مرتب کرکے جلد از جلد عدالت میں جمع کروایا جائے، تاکہ مقدمے کی مؤثر قانونی پیروی یقینی بنائی جا سکے۔

پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے کہا کہ خاتون کو مبینہ طور پر قتل کرکے واقعہ کو خودکشی کا رنگ دینا انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ ایسے جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنانے کے لیے پنجاب پراسیکیوشن اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ خواتین کے خلاف سنگین جرائم کے مقدمات میں زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے اور متاثرین کو انصاف کی فراہمی کے لیے تمام قانونی وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے