آزاد امیدوار روبا ڈار کی انتخابی دھاندلی کی درخواست کیوں خارج کی گئی؟

لاہور (پنجاب پوسٹ) پی پی 46 سیالکوٹ سے آزاد امیدوار روبا ڈار کی انتخابی دھاندلی سے متعلق درخواست الیکشن ٹریبونل لاہور نے کیوں خارج کی؟ تحریری فیصلے میں درخواست خارج ہونے کی وجوہات سامنے آگئیں۔

الیکشن ٹریبونل کے جج محمود مقبول باجوہ نے فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ روبا ڈار کی انتخابی پیٹشن الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 144 کے رول ایک پر پورا نہیں اترتی، جس کے باعث اسے ناقابلِ سماعت قرار دیا گیا۔

فیصلے کے مطابق درخواست کے ساتھ جمع کرائے گئے بیانِ حلفی میں حلف دینے والے شخص کا شناختی کارڈ نمبر درج نہیں تھا، جبکہ بیانِ حلفی کی تصدیق کس شہر سے ہوئی، اس کا بھی ذکر موجود نہیں تھا۔

الیکشن ٹریبونل نے قرار دیا کہ انتخابی پیٹشن کے ساتھ وکیل کا شناختی کارڈ اور بار ایسوسی ایشن کا کارڈ بھی منسلک کرنا ضروری ہوتا ہے، تاہم روبا ڈار کی درخواست میں یہ قانونی تقاضے بھی پورے نہیں کیے گئے۔

روبا ڈار نے اپنی درخواست میں الزام عائد کیا تھا کہ پی پی 46 کے 89 پولنگ اسٹیشنز کے انتخابی نتائج تبدیل کیے گئے اور الیکشن کمیشن نے حلقے کے غلط نتائج اپنی ویب سائٹ پر جاری کیے۔ درخواست گزار کے مطابق بدنیتی کی بنیاد پر مخالف امیدوار کو کامیاب قرار دیا گیا۔

تاہم ٹریبونل نے انتخابی دھاندلی کے الزامات پر جانے سے قبل درخواست کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا اور مقررہ قانونی تقاضے پورے نہ ہونے کی بنیاد پر پیٹشن خارج کردی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق پی پی 46 سیالکوٹ سے مسلم لیگ ن کے امیدوار چوہدری فیصل اکرام کامیاب قرار پائے تھے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے