لاہور(پنجاب پوسٹ)اسلامی نظریاتی کونسل اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے بغیر اجازت دوسری شادی کرنے پر شوہر کو جرمانہ عائد کرنے کی موجودہ قانونی شق کو شرعی اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے اس میں اضافے کی تجویز کی مخالفت کردی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر عطاء الرحمٰن کی مصروفیات کے باعث سینیٹر حافظ عبد الکریم کی زیرصدارت ہوا۔ اجلاس میں چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے بھی خصوصی شرکت کی اور فیملی قوانین میں مجوزہ ترامیم کے حوالے سے اپنی رائے پیش کی۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب کے مزار ڈیجیٹل ہوگئے، کن کن مزارت کی سیکورٹی اور نذرانے ڈیجیٹل ہونگے؟
کمیٹی نے سینیٹر سرمد علی کی جانب سے 19 جنوری 2026 کو سینیٹ میں پیش کیے گئے نجی ارکان کے بل ”مسلم فیملی لاز (ترمیمی) بل، 2026ء“ پر غور کیا۔ بل میں تجویز دی گئی ہے کہ بغیر اجازت دوسری شادی کرنے والے شوہر پر عائد جرمانے کو موجودہ 5 ہزار روپے سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کردیا جائے۔
اجلاس کے دوران چیئرمین قائمہ کمیٹی مذہبی امور سینیٹر ڈاکٹر عبد الکریم نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ جب شریعت نے دوسری شادی پر ایسی شرعی پابندی عائد نہیں کی تو قانون کے ذریعے اس پر 5 ہزار روپے جرمانے کی پابندی عائد کرنا بھی قابلِ جواز نہیں۔
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے بھی بغیر اجازت دوسری شادی پر 5 ہزار روپے جرمانے کی مخالفت کی۔ یوں کمیٹی کے اجلاس میں مجوزہ ترمیم کے ذریعے جرمانے میں اضافے کے معاملے پر شرعی اور قانونی پہلوؤں سے تفصیلی غور کیا گیا۔











