پنجاب یونیورسٹی میں پروفیسرز، سٹاف اور وائس چانسلر کے درمیان مبینہ چپقلش کا معاملہ پنجاب اسمبلی پہنچ گیا

لاہور ( پنجاب پوسٹ ) پنجاب یونیورسٹی میں پروفیسرز، سٹاف اور وائس چانسلر کے درمیان مبینہ چپقلش کا معاملہ پنجاب اسمبلی میں جا پہنچا ۔ مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی امجد علی جاوید نے معاملے پر تحریک التواء کار اسمبلی میں جمع کروا دی۔

تحریک التواء کار میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی میں جاری مبینہ اندرونی چپقلش نے ملک کی سب سے بڑی یونیورسٹی کو سرد جنگ کا میدان بنا دیا ہے، جس کے باعث جامعہ کا تعلیمی ماحول متاثر ہو رہا ہے۔

تحریک التواء کار کے مطابق پنجاب یونیورسٹی میں معیارِ تعلیم روبہ زوال ہے، داخلوں کا رجحان کم ہو رہا ہے جبکہ یونیورسٹی کی رینکنگ میں بھی گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔ تحریک میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی کے صاحبِ اختیار افراد اور ان کے متعلقین مبینہ طور پر تحقیق، تدریس، تعلیمی معیار اور جامعہ کی رینکنگ بہتر بنانے کے اقدامات کے بجائے دیگر معاملات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

مزید کہا گیا ہے کہ صاحبِ اختیار ہاؤسنگ سوسائٹی اور اساتذہ و سٹاف کی سیاست کی جانب زیادہ توجہ دے رہے ہیں، جبکہ اساتذہ اور ملازمین کو مبینہ طور پر من پسند کمیٹیاں تشکیل دے کر پیڈا ایکٹ کے ذریعے راستے سے ہٹانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

تحریک کے متن میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اپنے منظورِ نظر اور گروپ سے وابستہ افراد کو قواعد و ضوابط کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے نوازا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ایک گروپ عدالتوں اور اینٹی کرپشن کے فورم پر مبینہ کرپشن اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرکے صاحبِ اختیار کو مشکلات سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

تحریک التواء کار کے مطابق اس باہمی کشمکش کا نقصان وائس چانسلر یا اساتذہ تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات طلبہ اور پنجاب یونیورسٹی کے وقار پر بھی پڑ رہے ہیں۔ متن میں کہا گیا ہے کہ جب قیادت عہدوں کی مبینہ رشوت ستانی کی کپتان بن جائے تو نتائج مثبت کے بجائے منفی نکلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال کے باعث پنجاب بھر کے یونیورسٹی اساتذہ، طلبہ، والدین اور سول سوسائٹی میں سخت پریشانی اور اضطراب پایا جاتا ہے۔

رکن پنجاب اسمبلی امجد علی جاوید نے تحریک التواء کار کے ذریعے پنجاب یونیورسٹی کی موجودہ صورتحال پر ایوان میں بحث اور معاملے کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے