لٹ گئے برباد ہوگئے، مریم نواز نے تباہ کرکے رکھ دیا، پنجاب کے کسانوں نے وزیر اعلیٰ سے استعفیٰ مانگ لیا

لاہور (پنجاب پوسٹ) پاکستان کسان اتحاد کے چیئرمین خالد حسین باٹھ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کردیا۔ خالد حسین باٹھ کا کہنا تھا کہ اگر مریم نواز مزید اڑھائی سال اقتدار میں رہیں تو کسان مزید تباہ ہوجائے گا، ہم مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف نہیں بلکہ صرف وزیر اعلیٰ پنجاب کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

چیئرمین کسان اتحاد نے کہا کہ کسانوں کو گنے کی ادائیگیاں نہیں کی جا رہیں جبکہ غریب کسانوں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، کیا رمضان شوگر ملز کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی؟ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین سال سے کسان مشکلات کا شکار ہے، جب کسان کی گندم تیار تھی تو 35 لاکھ میٹرک ٹن گندم باہر سے منگوائی گئی، جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے گندم نہ خریدنے کے اعلان سے کسان کو مبینہ طور پر 2200 ارب روپے کا نقصان ہوا۔

خالد حسین باٹھ نے کہا کہ بجلی، کھاد اور دیگر زرعی مداخل کی قیمتیں کئی گنا بڑھ چکی ہیں، تاہم کسان کی پیداوار کی قیمت میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں ہوا۔ ان کے مطابق 2016 میں ڈی اے پی کھاد کا بیگ 2400 روپے کا تھا جو اب 16 ہزار 600 روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ ٹیوب ویل بجلی کا یونٹ 5 روپے سے بڑھ کر 40 روپے تک جا پہنچا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ کسانوں کو کھاد پر ٹوکن سبسڈی دی گئی جس میں محکمے کی جانب سے کرپشن کی گئی۔ کپاس کی پیداوار بھی 60 من فی ایکڑ سے کم ہو کر 12 من تک آنے کا دعویٰ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسان تاریخی استحصال کا شکار ہے۔

خالد حسین باٹھ نے اعلان کیا کہ پاکستان کسان اتحاد 25 ستمبر سے ملک بھر میں احتجاج کرے گی اور ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا دھرنا دینے جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور پنجاب سے کسان راولپنڈی پہنچیں گے اور لاکھوں افراد پر مشتمل ملین مارچ کیا جائے گا۔

چیئرمین کسان اتحاد نے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ پنجاب نے استعفیٰ نہ دیا تو احتجاج کا دائرہ ملک بھر تک پھیلایا جائے گا اور وہ کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسان اتحاد کسی سیاسی جماعت کا استعفیٰ نہیں مانگ رہی بلکہ صرف مریم نواز کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

پریس کانفرنس میں کسان اتحاد کے صدر میاں عمیر نے کہا کہ کسان کو کبھی مافیا کہا گیا اور کبھی خوشحال قرار دیا گیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گندم اور آلو کی فصلوں میں کسان کو اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈی اے پی، یوریا اور بجلی کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے، جبکہ کسان کی آمدن اس تناسب سے نہیں بڑھی۔

میاں عمیر نے مزید کہا کہ کسانوں کی بربادی کسی بین الاقوامی سازش کا نتیجہ ہوسکتی ہے اور موجودہ حکومت اس کا مہرہ بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب کسان اپنی اپیل فیلڈ مارشل کے پاس لے کر جا رہے ہیں اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے