لاہور (پنجاب پوسٹ) پاکستان ریلویز لاہور ڈویژن میں سرکاری کوارٹرز کی مبینہ بوگس الاٹمنٹ کا ایک اور کیس سامنے آگیا، سرکاری کوارٹرز کے جعلی دستاویزات تیار کرکے میوچل ایکسچینج کرانے کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی او ڈبلیو ون کے معاون محمد علی پر سرکاری کوارٹرز کے جعلی کاغذات تیار کرنے کا الزام ہے، مبینہ طور پر انہی دستاویزات کی بنیاد پر سرکاری کوارٹرز کی میوچل ایکسچینج کرائی گئی۔
معاملہ سامنے آنے کے بعد ایک کوارٹر کی الاٹمنٹ تو منسوخ کردی گئی، تاہم دوسرا کوارٹر تاحال مبینہ طور پر محمد علی کے زیر استعمال ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ جعلسازی کے الزامات کے باوجود ریلوے کوارٹر خالی نہیں کرایا جاسکا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: گوالہ قتل، کل اثاثہ ایک ڈول اور 700 روپے، قتل کی وجہ کیا بنی؟
سرکاری کوارٹرز کی مبینہ بوگس الاٹمنٹ کے معاملے نے ریلوے انتظامیہ کی نگرانی اور ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے نظام پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ جعلی دستاویزات تیار کرکے سرکاری کوارٹر کی میوچل ایکسچینج کیسے کرائی گئی اور مبینہ جعلسازی میں ملوث اہلکار کے خلاف کارروائی کہاں تک پہنچی؟
لاہور ڈویژن میں کوارٹرز کی الاٹمنٹ سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں نے ریلوے انتظامیہ کے سامنے کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔











