لاہور(پنجاب پوسٹ) پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اور منی مزدا ایسوسی ایشن کی ہڑتال لاہور میں بدستور جاری ہے، جہاں گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کا پہلا جبکہ منی مزدا ایسوسی ایشن کی ہڑتال کا تیسرا روز ہے۔
ہڑتال کے باعث شہر بھر میں سامان کی بکنگ اور ڈلیوری کا عمل مکمل طور پر معطل ہو گیا ہے، جبکہ گڈز اڈے بند ہونے سے گڈز ٹرانسپورٹ کا پہیہ بھی جام ہو کر رہ گیا ہے۔
گڈز ٹرانسپورٹرز اور منی مزدا ایسوسی ایشن کی جانب سے سرکلر روڈ اور بابو صابو چوک پر احتجاجی کیمپس قائم کیے گئے ہیں، جہاں مظاہرین اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ریلویز کے کوارٹرز پر جعل ساز قابض، جعلی کاغذات کیسے تیار کئے جاتے ہیں؟
گڈز ٹرانسپورٹرز کے مطالبات میں ڈیزل کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر تعین ختم کرنا، کسٹم ایکٹ میں نرمی، ٹول پلازہ فیسوں میں کمی اور ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح سات فیصد سے کم کر کے دو فیصد کرنا شامل ہے۔
دوسری جانب منی مزدا ایسوسی ایشن کے مطالبات میں ایکسل لوڈ میں اضافہ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل ختم کرنا، جرمانوں اور ٹول فیس میں کمی شامل ہیں۔
دونوں تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک ہڑتال جاری رکھی جائے گی، جس کے باعث کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔










