بارسلونا میں پی ٹی آئی کا رقص والا احتجاج – بدنامی یا دنیا کا نیا احتجاجی کلچر؟

تحریر :ثاقب علی راٹھور

گزشتہ روز بارسلونا میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان نے احتجاج کیا۔ اس احتجاج کی ویڈیوز جیسے ہی سوشل میڈیا پر آئیں، بحث چھڑ گئی وجہ ویڈیو میں کارکنان کا رقص تھا۔ ایک طبقے نے کہا کہ یہ سیاسی احتجاج کے وقار کے خلاف ہے اور اس سے باہر ملک میں پاکستان کی بدنامی ہوئی۔ دوسرے طبقے کا کہنا تھا کہ احتجاج کا کوئی ایک نصاب نہیں ہوتا۔
سچ یہ ہے کہ اگر ہم دنیا میں احتجاج کی تاریخ دیکھیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ رقص تو بہت چھوٹی بات ہے دنیا میں اس سے بھی زیادہ انوکھے طریقوں سے احتجاج کیا جاتا ہے۔

پہلے یہ سمجھتے ہیں بارسلونا میں احتجاج کا کلچر کیا ہے؟ سپین اور خاص طور پر بارسلونا احتجاج کو "فیسٹیول” بنا دیتا ہے۔ یہاں کاتالان تحریک، ماحولیاتی تحریکوں اور مزدور احتجاجوں میں ڈھول، موسیقی اور رقص لازمی حصہ ہوتا ہے۔ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ پرامن رہنا جب خواتین، بچے اور موسیقی ہو تو پولیس سے تصادم کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ دوسرے نمبر پر توجہ حاصل کرنا، ایک عام تقریر کی ویڈیو وائرل نہیں ہوتی لیکن رقص اور ڈھول والی ویڈیو پوری دنیا میں دیکھی جاتی ہے۔ اور ایسا ہی ہوا۔
اس لیے بارسلونا کے تناظر میں دیکھا جائے تو پی ٹی آئی کا یہ احتجاج وہاں کے مقامی کلچر کے مطابق ہی تھا۔

اب جانتے ہیں دنیا میں احتجاج انوکھے اور تخلیقی طریقے کون کون سے ہیں۔ ان میں سے چند ایک پر نظر ڈالتے ہیں۔

یہ سب سے قدیم ہتھیار ہے۔ جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خلاف "ٹوئی ٹوئی” رقص کیا جاتا تھا۔ چلی میں خواتین نے "Un Violador en Tu Camino” رقص کر کے پوری دنیا کو ہلا دیا۔ امریکہ میں بھی سول رائٹس موومنٹ گیتوں اور رقص کے بغیر ادھوری تھی۔

اس کے بعد ایک طریقہ برتن بجا کر احتجاج کیا جانا ہے۔ یہ سپین اور لاطینی امریکہ کا سب سے مشہور طریقہ ہے۔ لوگ گھروں کی بالکونیوں سے برتن بجاتے ہیں۔ بارسلونا میں بھی مہنگائی اور حکومت کے خلاف یہی ہوتا ہے۔

ایک انوکھا طریقہ اور بھی ہے جس میں مظاہرین اچانک سڑک پر گر کر مردہ بن کر لیٹ جاتے ہیں۔ یہ دکھانے کے لیے کہ آپ کی پالیسیوں سے لوگ مر رہے ہیں۔ یورپ میں ماحولیاتی کارکن اور امریکہ میں جنگ مخالف مظاہرین یہی کرتے ہیں۔

خاموش احتجاج بھی ایک طریقہ ہے۔ کچھ بھی نہ کہنا سب سے بڑا احتجاج ہوتا ہے۔ ہانگ کانگ میں لوگوں نے میٹرو میں بیٹھ کر خاموشی سے کتابیں پڑھ کر احتجاج کیا۔ پولیس انہیں ہٹا نہیں سکی کیونکہ وہ تو صرف کتاب پڑھ رہے تھے۔

اس سے بھی منفرد طریقہ چھتری والا احتجاج ہے۔ ہانگ کانگ میں جب پولیس نے آنسو گیس پھینکی تو لوگوں نے چھتریاں کھول لیں پھر چھتری ہی مزاحمت کا نشان بن گئی۔

ایک اور منفرد طریقہ یہ بھی ہے کہ ایک دیوار پر ہزاروں لوگ چھوٹے کاغذوں پر اپنے مطالبات لکھ کر چپکا دیتے ہیں۔ پراگ اور ہانگ کانگ میں یہ دیواریں انقلاب کی علامت بن گئیں۔

اسی طرح برطانیہ میں مظاہرین مسخرے بن کر پولیس کے سامنے آ جاتے ہیں۔ پولیس ان پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتی اور عوام ہنستے ہنستے ان کا پیغام سن لیتے ہیں۔

اسکے بعد لندن اور برلن میں کارکن راتوں رات کسی ویران سرکاری زمین پر پھول اگا دیتے ہیں۔ یہ قبضہ مافیا اور ماحولیاتی غفلت کے خلاف خوبصورت احتجاج ہے۔

ایک احتجاج جسکو کڑھائی والا احتجاج کہتے ہیں۔ میکسیکو میں خواتین نے لاپتہ افراد کے نام کپڑوں پر کڑھائی کر کے احتجاج کیا۔ پولینڈ میں خواتین نے کالے چھتری والے پوسٹر شہر بھر میں لگائے۔ اس کا نعرہ ہے کہ اگر دنیا کو خوبصورت بنانا ہے تو احتجاج بھی خوبصورت ہونا چاہیے۔

جرمنی میں لوگ رات کو لیزر لائٹ سے بڑی عمارتوں پر نعرے لکھ دیتے ہیں۔ یہ بھی احتجاج کا ایک طریقہ ہے۔

ہمارے ہاں احتجاج کا مطلب صرف سنجیدہ تقریر، بینر اور نعرہ سمجھا جاتا ہے، اس لیے رقص ہمیں عجیب لگتا ہے۔ لیکن دنیا کے لیے احتجاج کا اصول ایک ہی ہے۔ احتجاج کا مقصد گالی دینا یا لڑنا نہیں بلکہ اپنا پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پرامن طریقے سے پہنچانا ہے۔ وہ پیغام کبھی خاموش کھڑے ہو کر پہنچتا ہے، کبھی سڑک پر لیٹ کر، کبھی برتن بجا کر اور کبھی رقص کر کے۔ بارسلونا والے احتجاج کو اگر اسی عالمی نظر سے دیکھا جائے تو یہ بدنامی نہیں بلکہ اسی نئے دور کے تخلیقی احتجاجی کلچر کا ایک حصہ ہے جسے دنیا اب قبول کر رہی ہے۔

بارسلونا میں پی ٹی آئی کا رقص والا احتجاج اس شہر کے کلچر کے حساب سے بالکل نارمل تھا۔ یورپ میں احتجاج کو ایک "فیسٹیول” جیسا بنایا جاتا ہے تاکہ زیادہ لوگ آئیں اور پولیس سے تصادم نہ ہو۔ ہمارے ہاں احتجاج کا مطلب صرف سنجیدہ تقریر سمجھا جاتا ہے، اس لیے ہمیں یہ عجیب لگا۔ لیکن دنیا کے لیے احتجاج کا اصل اصول ایک ہی ہے – بات پرامن طریقے سے اور تخلیقی انداز میں پہنچنی چاہیے، چاہے وہ رقص سے پہنچے یا خاموش کھڑے ہونے سے۔ باقی ہر شخص کی اپنی رائے ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے