لاہور (پنجاب پوسٹ) نارنگ منڈی کے بازار ان دنوں غیر علاقائی پیشہ ور بھکاریوں کا آسان ہدف بن چکے ہیں۔ دوسرے اضلاع اور دور دراز علاقوں سے آنے والے نامعلوم اور باقاعدہ منظم گروہوں نے شہر کے تجارتی مراکز، پر اپنے قدم جما لیے ہیں،
حیرت انگیز اور تشویشناک بات یہ ہے کہ نارنگ منڈی میں چھائے ان بھکاریوں میں ایسے بھی شامل ہیں جن کیی نہ تو کوئی شناخت ہے اور نہ ہی مقامی سطح پر کوئی بائیو میٹرک یا بائیو گرافک ریکارڈ موجود ہے۔ شہریوں اور دفاعی ماہرین کے مطابق بظاہر مظلوم اور لاچار نظر آنے والے یہ غیر علاقائی افراد کسی بھی لمحے کسی بڑے منفی اثرات میں ملوث ہو سکتے ہیں، کیونکہ بغیر کسی شناخت کے گھومتے ان افراد پر نظر رکھنا مقامی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میاں چنوں: گاؤں 48 پندرہ ایل گھر میں بچوں کے کھیل کے دوران آگ لگ گئی، ریسکیو
شہر کے تمام تجارتی مراکز پر ان پیشہ ور بھکاریوں کے جتھوں نے خریداروں بالخصوص خواتین کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ یہ افراد نہ صرف کاروباری ماحول کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ ان کی زبردستی کی بھیک اور ہر لمحہ چپکے رہنے کی عادات کی وجہ سے بازاروں میں خوف کا عنصر پھیل رہا ہے۔
مقامی سماجی حلقوں اور تاجر برادری نے متعلقہ حکام اور بالخصوص پنجاب پولیس سے زوردار مطالبہ کیا ہے کہ نارنگ منڈی میں "گداگری ایکٹ” کے موثر نفاذ کو یقینی بنایا جائے اور ان نامعلوم پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف فوری اور بلا تفریق قانون کے مطابق سخت ترین آپریشن کا آغاز کیا جائے۔ شہریوں نے زور دیا ہے کہ شہر کی سیکیورٹی اور امن و امان کی خاطر ان بھکاریوں کی ببغیر شناخت گھومنے والے مشکوک غیر علاقائی عناصر کو فوری طور پر شہر بدر کیا جائے۔











