لاہور(جنرل رپورٹر)ایس ایل فور لاہور رنگ روڈ منصوبے کی منظوری۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہےکہ مساوی ترقی و خوشحالی کیلئے ہر شہر ہر گاؤں کی سڑک بننا ضروری ہے ، حقیقی زرعی انقلاب لانے کا اعزاز حاصل، 3500روپے فی من گندم خریداری فوری شروع کرنے، کاشتکاروں کو6 ارب کا باردانہ مفت دینے ، پنجاب میں ”ورک ود پنجاب گورنمنٹ“پروگرام شروع کرنے کا بھی اعلان ۔ ایس ایل فور لاہور رنگ روڈ منصوبے کی منظوری دے دی۔ وزیراعلیٰ کی زیرصدارت خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں اہم اور بڑے روڈز پراجیکٹس کی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے ملتان وہاڑی روڈ کی بروقت اور بہترین تعمیر کی ہدایت کی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے کی پہلی ڈسٹ فری سڑک ملتان وہاڑی روڈ کی بیس اور سب بیس مکمل ہوچکی جبکہ اسفالٹ ڈالنے کا کام تیزی سے جاری ہے۔ وزیراعلیٰ نے سیالکوٹ رنگ روڈ فیزون کی اصولی منظوری دے دی۔ وزیرآباد روڈ تا سیالکوٹ پسرور روڈ تک رنگ روڈ بنے گا۔ اجلاس میں بھکر، لیہ سمیت تھل کو ایم فور سے منسلک کرنے والی تھل ایکسپریس وے کا مجوزہ منصوبہ پیش کیا گیا۔
اس موقع پر راولپنڈی سگنل فری کوریڈور پراجیکٹ پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ راولپنڈی سگنل فری کوریڈور میں سات انڈر پاس اور ایک اوورہیڈ برج بنے گا۔ وزیراعلیٰ نے ملتان وہاڑی روڈ سمیت دیگر منصوبوں کی ویکلی رپورٹ طلب کر لی۔ وزیراعلیٰ نے جاری روڈ پراجیکٹس کی ہر صورت تکمیل بروقت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔اجلاس میں سی ایم اینی شیٹیو کے تحت جاری روڈز سیکٹر کے 133 پراجیکٹ اورروڈز سیکٹر کے دیگر 125 منصوبے کا بھی جائزہ لیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 12 ہزار کلومیٹر سے زائد روڈز کی تعمیر ومرمت کی گئی۔پہلی مرتبہ دیہات کی رابطہ سڑکوں کی تعمیر و بحالی پر توجہ دی گئی۔ عمدہ روڈز انفراسٹرکچر بننے سے کھیت سے منڈی اور کارخانوں سے مارکیٹ رسائی آسان ہو گی۔ مساوی ترقی و خوشحالی کے لئے ہر شہر ہر گاؤں کی سڑک بننا ضروری ہے۔ سیکرٹری تعمیرات ومواصلات راجہ جہانگیر انور نے روڈز سیکٹر کے بارے میں تفصیلی بریفنگ میں بتایا کہ پنجاب میں روڈز سیکٹر کے 2143 پراجیکٹس شروع کیے گئے جبکہ258 زیر تکمیل منصوبے بھی شامل ہیں۔روڈ بحالی پروگرام فیز ون کی 85 سکیمیں شروع کی گئی جن میں 38 مکمل اور 47 سکیموں پر کام جاری جبکہ روڈ بحالی پروگرام فیز ٹو میں 43 سکیموں میں سے 18 پر کام مکمل ہوچکا ہے اور 25 سکیموں پر کام جاری ہے۔








