لاہور ( پنجاب پوسٹ ) سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہے ، جس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ رینجرز اہلکار کشمیر میں نہتے شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔
ویڈیو کب بنائی گئی ؟
اس حوالے سے پنجاب پوسٹ فیکٹ چیک ٹیم نے ایڈوانس سرچ ٹولز استعمال کرتے ہوئے ویڈیوز کا مختلف زاویوں سے جائزہ لیا ۔ جس کے بعد دیکھا گیا کہ یہ ویڈیو پہلی بار لاہور کے ایک فیس بک صارف نے 19جون 2026 کو اپنی فیس بک وال پر اپ لوڈ کی ۔
واقعہ کیا ہوا؟
اسی حوالے سے جون ہی میں کی گئی متعدد پوسٹوں میں بتایا گیا ہے کہ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے حکام بجلی چوری کیخلاف پنجاب پولیس اور رینجرز کے ہمراہ چھاپہ مار رہے تھے کہ ان پر صوفیہ آباد سب ڈویژن میں عمر ٹاون حاجی دی کھوئی نشتر کالونی فیروز پور روڈ لاہور میں مٹھو خان نامی ایک شخص نے گن نکال کر حملہ کرنے کی کوشش کی ۔جسے پنجاب پولیس اور رینجرز اہلکاروں نے قابو کیا۔
لیسکو کا مئوقف کیا تھا؟
لیسکو کے مطابق پنجاب میں جس جگہ بھی بجلی چوری کیخلاف آپریشن کیا جاتا ہے تو بجلی کمپنی کے حکام کیساتھ پنجاب پولیس اور رینجرز اہلکار بھی موجود ہوتے ہیں ، کیونکہ بجلی چوروں کی طرف سے شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں ، سیکورٹی کی موجودگی کے پیش نظر آپریشن کیا جاتا ہے ۔
صارفین نے جون میں اس ویڈیو پر کیا لکھا ؟


نتیجہ
یہ ویڈیو پرانی ہے اور کشمیر کے حالیہ احتجاج کیساتھ اسکا کوئی تعلق نہیں ، مس لیڈنگ کہانی بیان کی جارہی ہے ۔












