لاہور(پنجاب پوسٹ) بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی مختلف جامعات کے طلبہ پر مشتمل وفد نے سول سیکرٹریٹ لاہور کے دربار ہال میں صوبائی وزراء ملک صہیب احمد بھرتھ، رانا سکندر حیات اور بلال اکبر سے ملاقات کی، جس میں بین الصوبائی ہم آہنگی، تعلیم اور ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران طلبہ کو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ترقیاتی اقدامات پر مبنی دستاویزی فلم دکھائی گئی۔ طلبہ نے پنجاب میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو سراہتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کی کارکردگی کی تعریف کی، جبکہ بلوچستان کے طلبہ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ "اگر وزیراعلیٰ پنجاب کو چھ ماہ کے لیے بلوچستان مل جائے تو صوبے کی تقدیر بدل سکتی ہے۔”
صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات ملک صہیب احمد بھرتھ نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت میں دو برس کے دوران 32 ہزار کلومیٹر سے زائد سڑکوں کی تعمیر و بحالی مکمل کی گئی، ای ٹینڈرنگ سسٹم کے ذریعے شفافیت کو یقینی بنایا گیا اور صرف 75 روز میں ایک ہزار 134 مقامی سڑکیں تعمیر کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید ہسپتالوں کے قیام اور گورننس میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے بتایا کہ بلوچستان اور دیگر صوبوں کے طلبہ کی درخواست پر وزیراعلیٰ پنجاب سے منظوری کے بعد آئندہ سال سے سمسٹر ایکسچینج پروگرام شروع کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے بلوچستان کے طلبہ کو پنجاب کی جامعات میں سکالرشپ پر داخلوں کی یقین دہانی بھی کرائی اور داخلے کے خواہشمند طلبہ کا ڈیٹا فوری طور پر نوٹ کر لیا۔
وزیر تعلیم نے کہا کہ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں اس وقت 15 ہزار سے زائد طلبہ دیگر صوبوں سے زیر تعلیم ہیں، جبکہ گلگت بلتستان کے 1900 طلبہ سکالرشپ پر پنجاب میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی جلد دانش سکول قائم کیے جائیں گے اور دانش سکولوں میں بلوچستان کے طلبہ کے لیے مختص کوٹے میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔
ملاقات کے اختتام پر صوبائی وزراء نے وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے تمام طلبہ کو ایک ایک لیپ ٹاپ تحفے میں دیا۔ طلبہ نے پنجاب حکومت کی تعلیمی اور عوامی فلاحی پالیسیوں کو سراہا، جبکہ نیشنل ورکشاپ کو بین الصوبائی ہم آہنگی، قومی یکجہتی اور نوجوانوں کے درمیان روابط کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔












