راولپنڈی ( پنجاب پوسٹ ) راولپنڈی کی عدالت میں منگل کے روز اس وقت غیرمعمولی خاموشی چھا گئی جب طویل عرصے سے زیرِ سماعت ماجد ستی قتل کیس کا فیصلہ سنایا جانے لگا۔ کمرۂ عدالت میں موجود ہر شخص کی نظریں جج پر مرکوز تھیں، جبکہ ملزمان بھی فیصلہ سننے کے لیے بے چینی سے اپنی نشستوں پر موجود تھے۔
جوں ہی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افشاں اعجاز صافی نے فیصلہ پڑھنا شروع کیا، عدالت کا ماحول مزید سنجیدہ ہو گیا۔ عدالتی ذرائع کے مطابق عدالت نے کیس کے مرکزی ملزم فرخ کھوکھرسمیت 3 مجرموں کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی ۔
فیصلہ سنائے جانے کے فوراً بعد عدالت میں موجود پولیس اہلکار حرکت میں آئے اور فرخ کھوکھر کو کمرۂ عدالت ہی میں گرفتار کر کے ہتھکڑیاں لگا دیں۔ بعد ازاں سخت ترین سیکیورٹی انتظامات کے تحت اسے اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا۔جب کہ ایک ملزم وسیم کو بری کر دیا۔، مجرم فرخ کھوکھر ضمانت پر تھا، جب کہ باقی دو مجرموں کو جیل سے لا کر عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔فیصلہ سنائے جانے کے وقت مقتول کے ورثا اور لواحقین کی بڑی تعداد جوڈیشل کمپلیکس میں موجود تھی، مجرموں فرخ کھوکھر سمیت شریک ملزمان کے حمایتیوں کی بڑی تعداد بھی جوڈیشل کمپلیکس پہنچی تھی۔
یہ بھی پڑھیں :خوش قسمتی یا معجزہ؟لاہور 3 افراد نہر میں گرنے کے باوجود کیسے محفوظ رہے؟
عدالت نے اپنے فیصلے میں صرف قید کی سزا ہی نہیں سنائی بلکہ مالی ذمہ داری بھی عائد کی۔ عدالتی حکم کے مطابق ملزمان کو 25 برس قید کے ساتھ مقتول ماجد ستی کے ورثا کو دس، دس لاکھ روپے بطور جرمانہ (دیت/معاوضہ) ادا کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔ مقررہ رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یہ فیصلہ ایک ایسے مقدمے کا اہم اختتام قرار دیا جا رہا ہے جس پر طویل عرصے سے فریقین اور عوام کی نظریں لگی ہوئی تھیں۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افشا اعجاز صوفی نے مقدمے کی سماعت مکمل کی۔ یاد رہے کہ ماجد ستی قتل کا مقدمہ 8 اگست 2022 کو تھانہ صدق آباد میں درج کیا گیا تھا۔
عدالتی فیصلے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ کیس کے قانونی تقاضے آئندہ مراحل میں بھی مقررہ طریقۂ کار کے مطابق آگے بڑھائے جائیں گے، تاہم ابتدائی طور پر عدالت نے مرکزی ملزم کو عمر قید کی سزا دے کر مقدمے کا فیصلہ سنا دیا۔













