لاہور ( پنجاب پوسٹ ) پنجاب حکومت کے بڑے ترقیاتی منصوبوں میں شامل "مثالی گاؤں” پروگرام پر پہلی بار حکومتی صفوں سے ہی کھلے اعتراضات سامنے آ گئے ہیں۔ پنجاب اسمبلی کی اسپیشل کمیٹی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی ملک احمد سعید خان نے منصوبے کے معیار، شفافیت اور عملدرآمد پر سخت تنقید کرتے ہوئے نہ صرف اپنی مایوسی کا اظہار کیا بلکہ اپنے حلقے میں اس طرز کا مثالی گاؤں بنانے سے بھی انکار کر دیا۔
اجلاس کے دوران فضا اس وقت دلچسپ ہو گئی جب حکومتی رکن نے دوٹوک الفاظ میں کہا، "ایسا مثالی گاؤں نہیں چاہیے۔” ان کا کہنا تھا کہ اگر ترقیاتی منصوبوں میں معیاری تعمیرات کی بجائے پرانا اور ناقص میٹریل استعمال کیا جائے تو ایسے منصوبوں کو مثالی قرار دینا عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔
ملک احمد سعید خان نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کے تحت 70 فیصد پرانی اینٹیں اور صرف 30 فیصد نئی اینٹیں استعمال کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق وہ اینٹیں بھی دوبارہ لگائی جا رہی ہیں جن پر برسوں ٹریکٹر ٹرالیاں چلتی رہی ہیں اور جو اپنی مضبوطی کھو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تعمیرات کو "مثالی گاؤں” کا نام دینا حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پنجاب مون سون کے بڑے امتحان کے لیے تیار ہے؟ ٹریفک پولیس ہائی الرٹ
حکومتی رکن نے مزید انکشاف کیا کہ ان کے حلقے کے آٹھ دیہات میں سے دو کو مثالی گاؤں بنانے کا اعلان کیا گیا تھا، مگر آج تک ایک بھی گاؤں مکمل نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق منصوبے کے دعووں اور زمینی حقائق میں واضح فرق موجود ہے، جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
اپنی گفتگو کے دوران انہوں نے منصوبے کے معیار پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر یہی طریقہ کار جاری رہا تو وہ وزیراعلیٰ پنجاب کی دوسری ٹیم کے تعاون سے اپنے حلقے میں خود ہی بہتر اور حقیقی معنوں میں مثالی گاؤں تعمیر کروا لیں گے۔
حکومتی رکن کی یہ تنقید اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اعتراضات اپوزیشن کی جانب سے نہیں بلکہ حکمران جماعت کے اپنے منتخب نمائندے کی طرف سے سامنے آئے ہیں۔ ایسے میں "مثالی گاؤں” منصوبے کی شفافیت، معیار اور نگرانی سے متعلق کئی نئے سوالات جنم لے رہے ہیں، جن کے جواب آئندہ دنوں میں حکومت کو دینا پڑ سکتے ہیں۔








