لاہور ( پنجاب پوسٹ ) پنجاب میں جاری مون سون بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات پر پی ڈی ایم اے پنجاب نے مون سون فلڈ سے متعلق تازہ فیکٹ شیٹ جاری کر دی ہے۔ فیکٹ شیٹ میں بارشوں، دریاؤں، بیراجوں، ندی نالوں، ڈیمز میں پانی کے بہاؤ اور حالیہ نقصانات کی تفصیلات شامل کی گئی ہیں، جبکہ آئندہ 24 گھنٹوں کے لیے بھی اہم پیش گوئی جاری کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشیں ریکارڈ کی گئیں۔ سب سے زیادہ اوکاڑہ میں 29 ملی میٹر بارش ہوئی، جبکہ نارووال میں 23، ساہیوال میں 19، شیخوپورہ میں 11، گوجرانوالہ میں 9، فیصل آباد میں 8 اور لاہور میں 7 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ حافظ آباد، سیالکوٹ، جھنگ، لیہ، قصور اور خانیوال میں بھی بارش ہوئی۔
ترجمان نے بتایا کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بھی پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مزید بارشوں کا امکان ہے، جس کے باعث متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر جاوید کے مطابق اس وقت پنجاب کے تمام بڑے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔ دریائے سندھ، چناب، جہلم، راوی اور ستلج میں پانی نارمل سطح پر ہے، جبکہ رودکوہیوں اور بڑے دریاؤں سے ملحقہ ندی نالوں میں بھی کسی غیر معمولی صورتحال کی اطلاع نہیں۔
یہ بھی پڑھیں : کیا پنجاب مون سون کے بڑے امتحان کے لیے تیار ہے؟ ٹریفک پولیس ہائی الرٹ
تاہم انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ موسم کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جائے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام انتظامات مکمل رکھے جائیں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی کہ بارشوں کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں، خاص طور پر بچوں کو برساتی نالوں، نشیبی علاقوں، دریاؤں اور نہروں میں نہانے یا جانے کی ہرگز اجازت نہ دیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مون سون بارشوں سے پیش آنے والے حادثات میں ایک شہری جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہوا۔ ادارے نے یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت پنجاب کی پالیسی کے مطابق متاثرہ خاندانوں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔
ڈی جی عمر جاوید نے مزید بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات پر پی ڈی ایم اے کنٹرول روم میں صورتحال کی 24 گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔









