لاہور: موٹروہیکل چوریوں میں اضافہ، صرف چھ ماہ میں 3ہزار سے زائد وارداتیں

لاہور(پنجاب پوسٹ) صوبائی دارالحکومت میں رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران وہیکل چوری اور چھیننے کی وارداتوں میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا۔ پولیس اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں شہریوں کی 3 ہزار 246 موٹر سائیکلیں، گاڑیاں اور دیگر وہیکلز ڈاکوؤں اور چوروں کے ہاتھوں چھینے یا چوری ہوئے۔


رپورٹ کے مطابق جنوری سے جون تک موٹر سائیکل چھیننے کی 74 وارداتیں ریکارڈ کی گئیں۔ ان میں ماڈل ٹاؤن ڈویژن سب سے زیادہ متاثر رہا جہاں 26 موٹر سائیکلیں اسلحے کے زور پر چھینی گئیں، جبکہ صدر ڈویژن میں 17 اور سٹی ڈویژن میں 16 وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔


اسی عرصے کے دوران موٹر سائیکل چوری کے 2 ہزار 868 واقعات سامنے آئے۔ موٹر سائیکل چوری کے حوالے سے کینٹ ڈویژن سرفہرست رہا جہاں 605 وارداتیں رپورٹ ہوئیں، جبکہ ماڈل ٹاؤن میں 601، صدر ڈویژن میں 572 اور سٹی ڈویژن میں 510 موٹر سائیکلیں چوری ہوئیں۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں کار چھیننے کے 3 جبکہ کار چوری کے 27 مقدمات درج کیے گئے۔ کار چوری کی سب سے زیادہ 7، 7 وارداتیں سول لائنز اور ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں رپورٹ ہوئیں، جبکہ صدر ڈویژن میں 6 اور کینٹ ڈویژن میں 4 گاڑیاں چوری ہوئیں۔


دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ اینٹی وہیکل لفٹنگ اسٹاف (AVLS) شہریوں کی چوری اور چھینی گئی موٹر سائیکلوں، گاڑیوں اور دیگر وہیکلز کی برآمدگی میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکا، جس کے باعث متاثرہ شہریوں میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ بڑھتے ہوئے وہیکل کرائمز نے پولیس کی کارکردگی اور جرائم کی روک تھام کے اقدامات پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے