لاہور(پنجاب پوسٹ) بھارتی فلم باغبان لاہور میں حقیقت بن گئی۔ وہاڑی کے نا خلق بچوں نے جائیداد پر قبضہ کرنے کے لئے باپ کو پاگل خانے میں داخل کروا دیا جبکہ لے پالک بیٹا منہ بولے باپ کو بچانےکے لئے لاہور ہائیکورٹ پہنچ گیا۔ جس کے بعد جسٹس فاروق حیدر نے مغوی کو فوری بازیاب کروا کر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق بازیابی کی درخواست پر سماعت جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے فاروق حیدر نے کی، جہاں تھانہ شادمان لاہور نے مغوی ناصر خان دولتانہ کو عدالت میں پیش کیا۔ مدعی عامر کی جانب سے ایڈووکیٹ صغراں گلزار نے دلائل دیے۔
عدالت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مغوی کے نام پر لڈن وہاڑی میں قیمتی کمرشل اراضی موجود ہے۔ حقیقی بچوں نے اپنے والد کو ذہنی مریضوں کے بحالی سینٹر میں داخل کروا دیا ہے۔ ناصر خان دولتانہ نے 8 ایکڑ اراضی 19 جون 2026 کو فروخت کا معاہدہ کیا، اس زمین کی فروخت کا معاہدہ 28 کروڑ روپے میں طے پایا تھا۔
وکیل نے مزید بتایا کہ مغوی کے 4 بچوں نے رنجش پر باپ کو ذہنی مریض قرار دے دیا۔ ناصر خان نے اپنے ایک بیٹے اور 3 بیٹیوں کے نام 80 ایکڑ زمین منتقل کر دی ہے۔ بچوں نے زمین فروخت کے معاہدے کے بعد 28 جون 2026 کو ویلنگ ویز سینٹر میں زبردستی داخل کروا دیا۔
عدالت سے استدعا کی گئی کہ تندرست شخص کو ذہنی مریضوں کے بحالی سینٹر سے بازیاب کروانے کا حکم دیا جائے، جس پر عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر بازیابی کا حکم صادر کر دیا۔










