لاہور ( پنجاب پوسٹ ) لندن سے لاہور آنے والی پرواز بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ایک بجے کے بعد علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتری تو مسافروں کے معمول کے ہجوم میں ایک نام ایسا بھی تھا جس نے چند ہی لمحوں بعد سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی۔ رپورٹس کے مطابق پاکستانی پوڈکاسٹر ریحان طارق کو ایئرپورٹ پر پہلے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) کے اہلکاروں نے روکا، جس کے بعد قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ایجنسی (NCCIA) کے اہلکار وہاں پہنچے اور انہیں اپنی تحویل میں لے گئے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ریحان طارق کو ایئرپورٹ سے ایک نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔ تاہم ان کی مبینہ حراست یا ممکنہ گرفتاری کی وجوہات کے بارے میں اب تک کسی سرکاری ادارے کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے انوکھا فراڈ، 10 ملزمان گرفتار
دوسری جانب قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ایجنسی (NCCIA) نے بھی تاحال اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے، جس کے باعث مختلف قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں۔ ادھر ریحان طارق کے اہلِ خانہ یا قریبی ساتھیوں کی جانب سے بھی ان رپورٹس کی نہ تو تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی تردید سامنے آئی ہے، جس سے صورتحال بدستور غیر واضح ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں حتمی رائے قائم کرنے سے قبل متعلقہ اداروں کے سرکاری مؤقف اور حقائق کا انتظار ضروری ہوتا ہے۔ اس وقت تک ریحان طارق کی مبینہ حراست یا گرفتاری سے متعلق تمام اطلاعات غیر مصدقہ رپورٹس پر مبنی ہیں، جبکہ اصل صورتحال حکام کی باضابطہ وضاحت کے بعد ہی سامنے آ سکے گی۔








