لاہور ( پنجاب پوسٹ ) پنجاب کو سنگل یوز پلاسٹک سے پاک بنانے کی مہم میں حکومت نے ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے پلاسٹک شاپنگ بیگز سے متعلق نئی پابندیاں نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ادارہ تحفظ ماحول پنجاب (EPA) کے مطابق 6 ستمبر 2026 کے بعد صوبے بھر میں کوئی بھی دکاندار یا کاروباری ادارہ صارفین سے پلاسٹک شاپنگ بیگ کے عوض اضافی رقم وصول نہیں کر سکے گا۔
ڈائریکٹر جنرل ادارہ تحفظ ماحول پنجاب ڈاکٹر عمران حامد شیخ کا کہنا ہے کہ متعدد کاروباری ادارے اپنی برانڈنگ والے پلاسٹک بیگز صارفین کو فروخت کرکے نہ صرف اضافی رقم وصول کرتے ہیں بلکہ اس پر منافع بھی کماتے ہیں، جس کے باعث پلاسٹک کے استعمال میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ نئے فیصلے کا مقصد اس رجحان کی حوصلہ شکنی اور ماحول دوست متبادل کو فروغ دینا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مریم نواز کا نیا ادارہ، کیا سرکاری اثاثوں کا نظام بدل جائے گا؟
حکام کے مطابق اگر کوئی کاروباری ادارہ نئی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پلاسٹک بیگ کے پیسے وصول کرتا پایا گیا تو اس کے خلاف 5 ہزار سے 50 ہزار روپے تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ سنگین خلاف ورزی کی صورت میں کاروبار سیل کرنے اور ایف آئی آر درج کرنے سمیت قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکے گی۔
ڈی جی ای پی اے نے شہریوں سے بھی تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی مقام پر پلاسٹک بیگ کے عوض اضافی رقم وصول کی جائے تو اس کی شکایت 1373 پر درج کرائی جا سکتی ہے تاکہ فوری کارروائی کی جا سکے۔
البتہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ کپڑے، کاغذ یا دیگر ماحول دوست میٹریل سے تیار کردہ بیگز پر اضافی رقم وصول کی جا سکتی ہے، کیونکہ ان کا مقصد ماحول دوست متبادل کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف سنگل یوز پلاسٹک کے استعمال میں کمی آئے گی بلکہ پنجاب کو صاف، سرسبز اور ماحول دوست صوبہ بنانے کے ہدف کے حصول میں بھی مدد ملے گی۔








