جیلیں بدلیں گی یا زندگیاں؟ پنجاب میں اصلاحات کا بڑا روڈ میپ سامنے آگیا

لاہور ( پنجاب پوسٹ ) پنجاب حکومت نے جیلوں کو صرف سزا دینے کی جگہ نہیں بلکہ حقیقی اصلاح گاہوں میں تبدیل کرنے کے لیے ایک جامع اور بڑے پیمانے پر اصلاحاتی منصوبے کا آغاز کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اہم اجلاس میں جیلوں میں قیدیوں کی فلاح، سہولیات، تعلیم، صحت، سکیورٹی اور اوور کراؤڈنگ کے خاتمے کے لیے متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ کو جیل اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ پنجاب کی جیلوں میں گنجائش 39 ہزار قیدیوں کی ہے، جبکہ اس وقت 68 سے 79 ہزار تک قیدی موجود ہیں۔ اس دباؤ کو کم کرنے کے لیے 27 نئی بیرکوں کی تعمیر جاری ہے، جبکہ ننکانہ صاحب اور سمندری کی نئی جیلیں رواں سال ستمبر تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ننکانہ صاحب جیل کی تکمیل کے لیے ایک ارب 30 کروڑ روپے کے فنڈز بھی منظور کیے گئے، جبکہ چنیوٹ اور مری میں نئی جیلوں کی تعمیر بھی تیزی سے جاری ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے غریب اور بے سہارا قیدیوں کو مفت قانونی معاونت فراہم کرنے کے لیے باقاعدہ "لیگل ایڈ ایجنسی” کے قیام کی منظوری دی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قیدیوں کی منتقلی کے لیے استعمال ہونے والی 30 جیل وینز کو جدید طرز پر ری ماڈل کیا جائے گا، جن میں ایئرکنڈیشننگ، واش روم، کیمرہ اسکرینز اور آرام دہ نشستوں کی سہولت موجود ہوگی۔

اجلاس میں قیدیوں کے کھانے، صفائی اور صحت کے معیار کو بہتر بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے جیل ہسپتالوں کی باقاعدہ انسپکشن، معیاری خوراک، ذہنی صحت کی سہولیات اور حفظانِ صحت کے سخت انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ بریفنگ کے مطابق رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں 91 ہزار سے زائد قیدیوں کی میڈیکل اسکریننگ اور علاج مکمل کیا گیا، جبکہ ذہنی صحت کے لیے 74 ماہرینِ نفسیات بھی تعینات کیے جا چکے ہیں۔

خواتین اور بچوں کی فلاح کے لیے بھی اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ جیلوں میں مقیم ماؤں اور چھ سال تک کے بچوں کے لیے خصوصی غذائی پروگرام شروع کیا گیا ہے، جبکہ لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی میں جدید خواتین جیلیں قائم کی جا رہی ہیں۔ اسی طرح کم عمر قیدیوں کے لیے جوینائل جیلوں میں تعلیم، ووکیشنل ٹریننگ، کھیلوں اور بہتر رہائشی سہولیات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

تعلیم اور ہنر مندی کے فروغ کو بھی جیل اصلاحات کا اہم حصہ بنایا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ لٹریسی پروگرام کے تحت 4 ہزار سے زائد قیدی تعلیم حاصل کرنے کے لیے رجسٹرڈ ہیں، جبکہ "ایک بیرک، ایک لائبریری” پالیسی کے تحت سیکڑوں قیدی میٹرک، انٹرمیڈیٹ اور گریجویشن مکمل کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ 15 جیلوں میں جیل انڈسٹری کامیابی سے چل رہی ہے، جہاں قیدی فرنیچر، قالین، ٹف ٹائلز، میلامائن کراکری، ایل ای ڈی لائٹس، واشنگ پاؤڈر، بیوٹی سوپ اور دیگر مصنوعات تیار کر رہے ہیں۔ موبائل فون، موٹر سائیکل اور ٹریکٹر مرمت، ویلڈنگ، کمپیوٹر اور کوکنگ سمیت مختلف فنی کورسز بھی جاری ہیں۔

اجلاس میں سکیورٹی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے بائیومیٹرک ویریفکیشن، رمیشن مینجمنٹ سسٹم، وائس اور پینک الرٹس، ایکس رے سسٹمز اور انٹیگریٹڈ کرمنل کوآرڈینیشن سسٹم کے نفاذ کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ تمام قیدیوں کو آڈیو اور ویڈیو کال کی سہولت فراہم کی جا چکی ہے، جبکہ گزشتہ دو برسوں میں ڈھائی ہزار سے زائد قیدیوں کو ان کے آبائی اضلاع کی جیلوں میں منتقل کیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ وہ جیلوں کے نظام کو خود قریب سے دیکھ چکی ہیں، اسی لیے ہر اصلاح کا مقصد قیدیوں کے بنیادی انسانی وقار اور حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب کی جیلیں اب صرف سزا کی علامت نہیں بلکہ اصلاح، تعلیم، ہنر اور نئی زندگی کی امید کا مرکز بنیں گی۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے