لاہور :(پنجاب پوسٹ)کے علاقے ڈیفنس سی میں دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا، تاوان اور زیادتی کے ہائی پروفائل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے مقدمے میں گرفتار چاروں ملزمان کو جسمانی ریمانڈ کے لیے کینٹ کچہری میں پیش کیا، جہاں کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ آطہر محمود نے کی۔
یہ بھی پڑھیں:مجھے اڈیالہ میں 24،24 گھنٹے قیدتنہائی میں رکھا گیا،جس پہ گزرتی ہے وہی جانتا ہے،مریم نواز
عدالت میں پیش کیے گئے ملزمان میں احمد رضا ڈار، حسن رضا، سکندر خان اور ساجد علی شامل تھے۔ سماعت کے دوران عدالت نے تمام ملزمان کی حاضری لگوائی اور فاضل جج نے ان کے چہروں سے ماسک بھی اتروا دیے۔پراسیکیوشن نے مؤقف اختیار کیا کہ متاثرہ خواتین غیر ملکی ہیں، انہوں نے دفعہ 164 کے تحت اپنے بیانات قلمبند کرا رکھے ہیں اور مرکزی ملزم احمد رضا ڈار کو نامزد کیا ہے۔ پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے خواتین کو اغوا کیا، ڈیڑھ ملین ڈالر تاوان طلب کیا اور انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا، جس سے پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر بدنامی ہوئی۔
متاثرہ خواتین اسٹیفنی ایڈانا ماؤ (ہالینڈ) اور مس آسٹریا رابنسن باراچو (وینزویلا) اپنے دوستوں سے ملاقات کے لیے پاکستان آئی تھیں۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ تھانہ ڈیفنس سی کی حدود میں پیش آیا، جہاں مقدمہ نمبر 1560/26 اغوا برائے تاوان اور زیادتی سمیت دیگر سنگین دفعات کے تحت درج ہے۔
دلائل سننے کے بعد عدالت نے احمد رضا ڈار سمیت چاروں ملزمان کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں مزید تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا۔ عدالت نے ملزمان کو 8 جولائی کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم بھی دے دیا۔












