اسلام آباد (پنجاب پوسٹ )سندھ طاس معاہدے پر اسلام آباد میں’سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک اہم ذریعہ‘ کے موضوع پر بین الاقوامی سیمینار جاری ہے۔سندھ طاس معاہدے کی اہمیت، آبی وسائل کے تحفظ اور علاقائی تعاون سے متعلق بین الاقوامی سیمینار میں وفاقی وزراء، سیاسی رہنما، ماہرین اور متعلقہ حکام شرکت کررہے ہیں۔سیمینار کے افتتاحی سیشن سے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے خطاب کیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ محض ایک بین الاقوامی معاہدہ نہیں بلکہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی، معیشت اور مستقبل سے جڑا معاملہ ہے۔ پاکستان ہر صورت اس تاریخی معاہدے کے تقدس کا تحفظ کرے گا اور اگر ملک کا پانی روکنے کی کوشش کی گئی تو قومی قیادت عوام کا حق بحال کرنے کے لیے مؤثر جواب دینے کے لیے پرعزم ہے۔
اسلام آباد میں ’سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک اہم ذریعہ‘ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ آج ہم صرف ایک معاہدے پر نہیں بلکہ پاکستان کی شہ رگ پر گفتگو کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وادی سندھ کی تہذیب ہماری اصل شناخت ہے اور ہم اس عظیم تہذیب کے وارث ہیں۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کے لیے پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ زندگی کا بنیادی مسئلہ ہے۔ ہزاروں برس سے دریائے سندھ کا نظام دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک کی آبیاری کرتا آیا ہے، جبکہ پاکستان کی تاریخ دراصل دریائے سندھ کی تاریخ ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت قومی معیشت کا بنیادی ستون ہے اور دریائے سندھ اس کی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ 6 دہائیاں قبل پاکستان اور بھارت نے ایک غیر معمولی فیصلہ کرتے ہوئے 1960 میں سندھ طاس معاہدہ کیا، جو بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ کے سب سے پائیدار آبی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ پرامن تعلقات، تعمیری مذاکرات اور معاہدے پر مخلصانہ عمل درآمد کے عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی قیادت بارہا واضح کر چکی ہے کہ دریائے سندھ کے پانی پر پاکستان کے عوام کا مکمل اور قانونی حق ہے، تاہم بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوشش کی، جو بین الاقوامی معاہدوں کی روح کے منافی ہے۔








