پنجاب حکومت کے عادی مجرمان کو قابو کرنے اور غیر سماجی رویوں کے تدارک کے بل میں کیا ہے ؟

لاہور ( پنجاب پوسٹ) حکومت پنجاب نے آزادی کے اٹھہتر برس بعدپنجاب میں ایسا قانون جس پر برطانوی راج کے افسر بھی شرما جائیں۔ بل کا نام پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئل آفینڈرز اینڈ اینٹی سوشل بیہیویئر بل 2026 ہے ۔

جس کے تحت انتظامیہ محض ایک انٹیلی جنس کمیٹی کی رائے کی بنیاد پر کسی شخص کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر سکتی ہے، اس کی جائیداد ضبط کر سکتی ہے، سوشل میڈیا اور آن لائن موجودگی ختم کر سکتی ہے، موبائل فون قبضے میں لے سکتی ہے اور اسے الیکٹرانک نگرانی میں رکھ سکتی ہے۔یہ بل اسمبلی کی متعلقہ کمیٹی سے منظور ہو چکا ہے اور اب صرف پنجاب اسمبلی کی منظوری کا منتظر ہے، ۔

یہ بل مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی خالد محمود رانجھا، جو سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بھی رہ چکے ہیں، نے پیش کیا۔

بل کے مطابق ضلعی انٹیلی جنس کمیٹیاں مستقبل میں اپنی مرضی سے مزید سرگرمیوں کو بھی "اینٹی سوشل بیہیویئر” قرار دے سکتی ہیں، اور اس کے لیے دوبارہ اسمبلی سے قانون منظور کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔اس بل کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ سزا جرم ثابت ہونے کے بعد نہیں بلکہ صرف مقدمہ درج ہونے یا پولیس کی رپورٹ کی بنیاد پر بھی دی جا سکتی ہے۔اگر کسی شخص کے خلاف قابلِ ذکر شواہد موجود ہوں یا اسے مخصوص جرائم میں ایک سے زائد مرتبہ گرفتار کیا گیا ہو تو اسے "عادی مجرم” قرار دیا جا سکتا ہے، چاہے بعد میں تمام مقدمات میں وہ بری ہی کیوں نہ ہو جائے۔

بل میں "اینٹی سوشل بیہیویئر” کی 23 مختلف اقسام شامل کی گئی ہیں ؟ جن میں جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے سنگین جرائم کے ساتھ ساتھ عوامی مقامات پر گالم گلوچ، لوگوں کو پریشان کرنا شامل ہیں ۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلانا اور جانوروں پر ظلم جیسے معاملات بھی بل کا حصہ ہیں ۔ اسی طرح ضلعی انٹیلی جنس کمیٹیاں مستقبل میں اپنی مرضی سے مزید سرگرمیوں کو بھی "غیر سماجی رویہ” قرار دے سکتی ہیں۔

بل کے مطابق عادی مجرم قرار پانے والے شخص کو کم از کم تین ماہ تک الیکٹرانک مانیٹرنگ ڈیوائس پہننا ہوگی۔ عادی مجرم کو مانتی مچلکے جمع کرانا ہوں گے،پولیس کی ہدایات کے مطابق حاضری دینا ہوگی، یہ نہیں بلکہ انتظامیہ کی جانب سے عادی مجرم کی تصاویر، فنگر پرنٹس، ہاتھ کی لکھائی، بائیومیٹرک معلومات اور ممکنہ طور پر ڈی این اے بھی محفوظ کیا جائے گا۔ اسی طرح عادی مجرم کا نام ضلعی اور صوبائی "ہیبیچوئل آفینڈرز رجسٹری” میں درج کر دیا جائے گا۔

بل کے تحت ضلعی انتظامیہ کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی شخص کو "ہیبیچوئل آفینڈر” قرار دے کر اسکا نام پروویژنل نیشنل آئیڈینٹیفیکیشن لسٹ (PNIL) میں شامل کرسکتی ہے اور اسکا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلاک یا ضبط ہوگا، سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کئے جائیں گے ۔ عادی مجرم کا موبائل فون، لیپ ٹاپ اور ان کا تمام ڈیٹا ضبط کرنے کے علاوہ منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد ضبط کی جائے گی ۔ ہیبیچوئل آفینڈر کے بینک اکاؤنٹس منجمد ہونگے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نگرانی کی جائے گی ۔

سوال یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ عدالت میں جانے سے قبل کس طرح کسی ایک شخص کو عادی مجرم قرار دے سکتی ہے ؟ سزا سے قبل انتقامی رویوں کا تدارک کیسے ہوگا ؟ "فحش” یا "نامناسب” زبان کا فیصلہ کون کرے گا؟ "پریشان کرنے” اور معمول کی سماجی گفتگو میں فرق کون متعین کرے گا؟ "غلط معلومات” کی تعریف کون کرے گا؟ ان تمام سوالات کا جواب قانون میں واضح نہیں بلکہ انہیں انٹیلی جنس کمیٹیوں کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے۔جانوروں پر ظلم کو بھی اسی فہرست میں شامل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت نے قانون کو جان بوجھ کر اتنا وسیع رکھا ہے کہ اسے مختلف حالات میں آسانی سے استعمال کیا جا سکے۔

روزنامہ ڈان میں شائع رپورٹ کے مطابق حکومت برطانیہ نے چند قبائل پر قابو پانے کیلئے 1871ء میں کرمنل ٹرائبز ایکٹ لاگو کیا تھا ۔ اس قانون کے تحت برطانوی حکومت نے بعض پوری برادریوں کو "پیدائشی مجرم” قرار دے دیا تھا۔ ان لوگوں کو لازمی رجسٹریشن، نقل و حرکت پر پابندی، پولیس میں باقاعدہ حاضری اور مخصوص علاقوں میں رہنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔اس قانون کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں عدالتی کارروائی اور ثبوت کی معمول کی قانونی شرائط کو نظرانداز کر کے انتظامی فیصلوں کے ذریعے سزائیں دی جا سکتی تھیں، جو نوآبادیاتی حکمرانوں کے لیے نہایت مفید تھا۔ تاہم 1918ء میں برطانوی حکومت نے یہی تصور ان افراد تک بھی بڑھا دیا جو ان مخصوص قبائل سے تعلق نہیں رکھتے تھے، اور ریسٹرکشن آف ہیبیچوئل آفینڈرز (پنجاب) ایکٹ 1918 نافذ کیا گیا۔ اسی قانون کو اب 2026ء کا بل منسوخ کر کے اس کی جگہ لینے جا رہا ہے۔1918ء کے قانون کے تحت بھی کسی شخص کو بغیر سزا یافتہ ہوئے "عادی مجرم” قرار دے کر اس کی نقل و حرکت محدود کی جا سکتی تھی، اسے مخصوص علاقے تک محدود رکھا جا سکتا تھا اور پولیس نگرانی میں رکھا جا سکتا تھا۔اس وقت لندن میں موجود سیکرٹری آف اسٹیٹ فار انڈیا نے اس بل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے افراد کی نقل و حرکت محدود کرنا اور انہیں پولیس نگرانی میں رکھنا جو ابھی کسی جرم میں سزا یافتہ نہیں، ایک ایسا اصول ہے جسے برطانوی ہندوستان کے مستقل قوانین میں جگہ نہیں دی جانی چاہیے۔

بعد ازاں 1959ء میں فیلڈ مارشل ایوب خان کی فوجی حکومت نے ویسٹ پاکستان کنٹرول آف غنڈا آرڈیننس نافذ کیا، جس کے تحت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کسی شخص کو اس کے رویے یا تعلقات کی بنیاد پر "غنڈہ” قرار دے کر دو سال تک اس کی نقل و حرکت، رہائش اور سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کر سکتا تھا، چاہے وہ کسی جرم میں سزا یافتہ نہ بھی ہو۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے