لاہور: ( پنجاب پوسٹ )پنجاب حکومت نے اراضی ریکارڈ کے نظام میں بڑی ڈیجیٹل اصلاحات کرتے ہوئے یکم جولائی 2026 سے صوبے بھر میں روایتی پراپرٹی فرد کے اجراء کا عمل بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس حوالے سے بورڈ آف ریونیو پنجاب نے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
نئی پالیسی کے تحت جائیداد کی خرید و فروخت، انتقالات اور اراضی سے متعلق دیگر معاملات میں روایتی فرد کی جگہ گرین سرٹیفکیٹ بنیادی دستاویز کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ یکم جولائی کے بعد پنجاب کے بیشتر اضلاع میں تمام پراپرٹی لین دین اسی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر انجام پائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : پنجاب حکومت نے آبیانہ نرخوں میں نمایاں اضافہ کر دیا
نوٹیفکیشن کے مطابق ساہیوال، لودھراں اور حافظ آباد کو ابتدائی مرحلے میں اس پابندی سے استثنا حاصل ہوگا، جبکہ دیگر تمام اضلاع میں گرین سرٹیفکیٹ کا حصول لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یہ سرٹیفکیٹ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی مینجمنٹ آف ریکارڈ ریگولیشنز 2025 کے تحت جاری کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد اراضی ریکارڈ کو شفاف، محفوظ اور مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانا ہے۔ گرین سرٹیفکیٹ جائیداد کی ملکیت اور ریکارڈ کی مستند ڈیجیٹل تصدیق فراہم کرے گا، جس سے جعلسازی، دوہرے ریکارڈ اور دستاویزات میں ردوبدل جیسے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
بورڈ آف ریونیو کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی سے پراپرٹی لین دین میں شفافیت، قانونی تحفظ اور عوامی سہولت میں نمایاں بہتری آئے گی، جبکہ لینڈ ریکارڈ سسٹم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کا عمل بھی مزید تیز ہوگا۔









