پنجاب اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی-II (پی اے سی ٹو) کے اجلاس میں کووڈ-19 وبا اور ماحولیاتی شعبے سے متعلق مالی و انتظامی امور میں متعدد سنگین بے ضابطگیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کی صدارت چیئرپرسن سید علی حیدر گیلانی نے کی جس میں محکمہ خزانہ، آڈٹ حکام، پنجاب اسمبلی اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں پیش کی گئی آڈٹ رپورٹس کے مطابق انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی (EPA) کی کارکردگی پر شدید تحفظات سامنے آئے، جہاں نہ صرف پنجاب کی سالانہ ماحولیاتی رپورٹ بروقت تیار نہیں کی گئی بلکہ پینلٹی رولز بھی تشکیل نہیں دیے گئے۔ اس کے نتیجے میں ماحولیاتی قوانین کے نفاذ میں کمزوری اور خلاف ورزیوں پر جرمانوں کے نظام میں عملی رکاوٹیں سامنے آئیں۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب حکومت کا مفت سفری سہولت ختم کرنے کا فیصلہ، آج رات تک رعایت برقرار رہے گی
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ مقررہ مدت میں ماحولیاتی منظوریوں (environmental approvals) کا اجرا نہیں کیا گیا اور خلاف ورزی کرنے والے اداروں پر جرمانے بھی عائد نہیں کیے گئے، جس سے حکومتی ریونیو اور ریگولیٹری نظام متاثر ہوا۔کووڈ-19 کے دوران قائم کیے گئے ویکسینیشن سینٹرز (CVCs) کے لیے سامان کی خریداری اور ادائیگیوں میں بھی غیر مجاز اور غیر شفاف اخراجات سامنے آئے۔ اسی طرح خیموں کی خریداری پر غیر ضروری اخراجات اور بعض واجبات کی بے ضابطہ ادائیگیوں کا بھی انکشاف ہوا۔
مزید برآں کرائے کی گاڑیوں کے استعمال کے دوران اجلاس میں ان تمام امور پر پی اے سی ٹو نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریکوری کے عمل کو فوری اور ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت جاری کی۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ ذمہ داران کا تعین کرکے قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور آئندہ ایسی بے ضابطگیوں کی روک تھام یقینی بنائی جائے گی۔حکام کو یہ بھی ہدایت دی گئی کہ تمام متعلقہ محکمے آڈٹ پیراز پر جلد از جلد عملدرآمد رپورٹ جمع کرائیں تاکہ مالی نظم و نسق کو بہتر بنایا جا سکے اور سرکاری وسائل کے شفاف استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔















