لاہور :(پنجاب پوسٹ)میں بجلی چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف پولیس نے سخت اور بھرپور کریک ڈاؤن جاری رکھا ہوا ہے۔ ترجمان لاہور پولیس کے مطابق رواں سال کے دوران بجلی چوری میں ملوث 8211 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ شہر بھر کے مختلف تھانوں میں 7608 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ یہ کارروائیاں توانائی کے شعبے میں ہونے والے بڑے مالی نقصان کو روکنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بجلی چوری نہ صرف قومی معیشت کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ عام شہریوں کو بھی لوڈشیڈنگ اور اضافی بوجھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے اس جرم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔ کارروائیوں کے دوران مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر غیر قانونی کنڈے اور بجلی چوری کے نیٹ ورک کو بھی ختم کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:شدید آندھی اور بارش سے لیسکو کے متعدد فیڈرز متاثر، بجلی بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات جاری
لاہور پولیس کے مطابق متعلقہ تھانوں کی ٹیمیں لیسکو اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر بجلی چوری کے کیسز کی نشاندہی اور فوری کارروائی کو یقینی بنا رہی ہیں۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ بجلی چوروں کے خلاف مقدمات کو تیزی سے آگے بڑھا کر انہیں منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔سی سی پی او لاہور Bilal Siddiq Kamiana نے افسران کو ہدایت دی ہے کہ بجلی چوری کے مقدمات کا مؤثر فالو اپ کیا جائے اور کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ٹیمیں دیگر متعلقہ اداروں کو مکمل معاونت فراہم کر رہی ہیں تاکہ نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے
مزید یہ کہ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں بجلی چوری یا غیر قانونی کنکشن کی فوری اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔ حکام کے مطابق عوامی تعاون کے بغیر اس مسئلے کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔















