قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی (این جے پی ایم سی) نے ملک بھر میں ماتحت عدلیہ کے نظام کو مزید فعال اور مؤثر بنانے کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے ضلعی اور سیشن عدالتوں میں ہفتے کے چھ روز کام بحال کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ فیصلے کے تحت اب ماتحت عدالتوں میں جمعہ اور ہفتہ دونوں دن تعطیل نہیں ہوگی اور عدالتیں معمول کے مطابق ہفتے میں چھ دن کام کریں گی۔کمیٹی کے اجلاس میں عدالتی امور، زیر التوا مقدمات اور عوام کو بروقت انصاف کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ برسوں میں قومی سطح پر توانائی بحران اور بجلی کی بچت کے اقدامات کے تحت ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں ہفتہ وار اضافی تعطیلات دی گئی تھیں تاکہ سرکاری اداروں میں توانائی کے استعمال کو کم کیا جا سکے۔ اس پالیسی کے تحت بعض عدالتوں میں ہفتے میں تین دن تعطیلات کا نظام بھی اختیار کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں؛قومی اقتصادی سروے: ملکی معیشت میں بہتری کا رجحان ،کس شعبے نے کتنی ترقی کی ؟ سابق ادوار کا تقابلی جائزہ
اجلاس میں Lahore High Court اور Peshawar High Court کی جانب سے عدالتی تعطیلات کے موجودہ نظام پر نظرثانی کی سفارشات پیش کی گئیں۔ دونوں ہائیکورٹس نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی بوجھ میں مسلسل اضافے، مقدمات کے انبار اور عوامی سہولت کے پیش نظر عدالتوں کے کام کے دن بڑھانا ناگزیر ہو چکا ہے۔قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے سفارشات کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا کہ ماتحت عدالتوں میں معمول کا چھ روزہ ورکنگ ہفتہ بحال کیا جائے تاکہ مقدمات کی سماعت کے لیے زیادہ وقت دستیاب ہو اور زیر التوا کیسز کے بوجھ میں کمی لائی جا سکے۔ کمیٹی نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس اقدام سے سائلین کو جلد انصاف کی فراہمی میں مدد ملے گی اور عدالتی کارکردگی مزید بہتر ہوگی۔
کمیٹی نے یہ بھی واضح کیا کہ توانائی کے مؤثر استعمال اور اخراجات میں کمی کے لیے ہائیکورٹس اپنی سطح پر ریسورس مینجمنٹ اور انرجی سیونگ پالیسیوں پر عمل جاری رکھیں گی۔ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل عدالتی نظام، توانائی بچانے والے آلات اور مؤثر انتظامی اقدامات کے ذریعے بجلی کی بچت کے اہداف حاصل کیے جائیں گے۔قانونی حلقوں کے مطابق اس فیصلے سے نہ صرف عدالتی نظام کی کارکردگی میں بہتری آئے گی بلکہ لاکھوں زیر التوا مقدمات کے جلد نمٹانے میں بھی مدد ملے گی، جس کا براہِ راست فائدہ سائلین اور وکلا برادری کو پہنچے گا۔















