لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ نے کمسن بچے سے بدفعلی کے مجرم کی عمر قید برقرار رکھ دی

لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ نے کمسن بچے سے بدفعلی کے مقدمے میں مجرم امتیاز حسین کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی عمر قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔فیصلہ جسٹس طارق سلیم شیخ اور جسٹس امجد رفیق پر مشتمل دو رکنی بینچ نے جاری کیا۔ عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ پراسیکیوشن مجرم کے خلاف عائد الزامات ثابت کرنے میں کامیاب رہی ہے اور ریکارڈ پر موجود شواہد سزا برقرار رکھنے کے لیے کافی ہیں۔

مزید پڑھیں :عدالت نے اپنے فیصلے میں بین الاقوامی طبی تحقیق اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد متاثرہ بچوں کی ذہنی کیفیت سے متعلق تحقیقی مواد کو بھی شامل کیا۔ فیصلے کے مطابق ایسے جرائم متاثرہ بچوں کی ذہنی، نفسیاتی اور سماجی زندگی پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کرتے ہیں۔مقدمے کے مطابق مجرم امتیاز حسین کے خلاف 2022 میں تھانہ بہاولپور پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا۔ مدعی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنی اہلیہ اور دو بچوں کے ساتھ میلسی شہر خریداری کے لیے گیا ہوا تھا جبکہ ایک بیٹا گھر پر موجود تھا۔ واپسی پر انہوں نے ملزم کو اپنے کمسن بیٹے کے ساتھ بدفعلی کرتے ہوئے دیکھا۔

مقدمے کے مطابق مجرم امتیاز حسین کے خلاف 2022 میں تھانہ بہاولپور پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا۔ مدعی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنی اہلیہ اور دو بچوں کے ساتھ میلسی شہر خریداری کے لیے گیا ہوا تھا جبکہ ایک بیٹا گھر پر موجود تھا۔ واپسی پر انہوں نے ملزم کو اپنے کمسن بیٹے کے ساتھ بدفعلی کرتے ہوئے دیکھا۔دورانِ سماعت مجرم نے اپنے دفاع میں مؤقف اپنایا کہ اس کی مٹھائی کی دکان ہے اور متاثرہ بچہ اس کے کیش دراز سے رقم لے کر بھاگا تھا، جس پر اس نے بچے کو مارا اور بعد ازاں اس پر جھوٹا مقدمہ درج کرا دیا گیا۔تاہم عدالت نے قرار دیا کہ میڈیکل اور فرانزک رپورٹس سمیت دیگر شواہد مجرم کے خلاف الزامات کی تصدیق کرتے ہیں۔ عدالت کے مطابق دفاع کی جانب سے پیش کیا گیا مؤقف شواہد کی روشنی میں قابلِ قبول نہیں اور مجرم کو شک کا فائدہ نہیں دیا جا سکتا۔عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ نے حقائق، شواہد اور قانونی تقاضوں کے مطابق مجرم کو سزا سنائی، لہٰذا سزا میں مداخلت کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے