پنجا ب پو سٹ:پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے قومی کرکٹرز کے سینٹرل کنٹریکٹ نظام میں بڑی اور تاریخی تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے روایتی اے، بی، سی اور ڈی گریڈ سسٹم کو ختم کر دیا ہے۔ نئے ماڈل کے تحت کھلاڑیوں کی درجہ بندی اب ان کی فارمیٹ اسپیشلائزیشن اور کارکردگی کی بنیاد پر کی جائے گی، جس کا مقصد جدید کرکٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ نظام تشکیل دینا ہے۔پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ نئے کنٹریکٹ ڈھانچے میں کھلاڑیوں کو پانچ مختلف ٹریکس میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں اے بی، اے، بی سی، سی اور ڈی ٹریک شامل ہیں۔ یہ نیا نظام اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ موجودہ دور میں تمام کھلاڑی تینوں فارمیٹس نہیں کھیلتے اور بہت سے کرکٹرز کسی ایک یا دو فارمیٹس میں مہارت رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور:میٹرو بس اور ہسپتالوں میں موبائل فون چوری کرنے والا ملزم گرفتار
نئے نظام کے مطابق اے بی ٹریک ان نمایاں ملٹی فارمیٹ کھلاڑیوں کے لیے مختص ہوگی جو ٹیسٹ اور ون ڈے دونوں فارمیٹس میں قومی ٹیم کا اہم حصہ ہیں۔ اے ٹریک پہلی مرتبہ صرف ٹیسٹ اسپیشلسٹ کرکٹرز کے لیے رکھی گئی ہے، جس کے تحت ایسے کھلاڑیوں کو بیرون ملک فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کی اجازت بھی دی جائے گی تاکہ ان کی تکنیکی صلاحیتوں میں مزید بہتری لائی جا سکے۔اسی طرح بی سی ٹریک ان کھلاڑیوں کے لیے ہوگی جو مستقل بنیادوں پر ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں، جبکہ سی ٹریک خصوصی طور پر ٹی ٹوئنٹی اور فرنچائز لیگ کرکٹ کے ماہر کھلاڑیوں کے لیے مختص کی گئی ہے۔ اس کیٹیگری میں شامل کرکٹرز کو دنیا بھر کی مختلف فرنچائز لیگوں میں شرکت کے لیے پہلے سے زیادہ آزادی حاصل ہوگی۔
پی سی بی کے مطابق ڈی ٹریک قومی کرکٹ اکیڈمی اور ابھرتے ہوئے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے متعارف کروائی گئی ہے تاکہ مستقبل کے اسٹارز کو ترقی کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں اور انہیں قومی ٹیم کے لیے تیار کیا جا سکے۔کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ نئے کنٹریکٹ سسٹم کا بنیادی مقصد کھلاڑیوں کی مہارت، فارمیٹ کے مطابق کارکردگی اور بین الاقوامی کرکٹ کے جدید رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک زیادہ مؤثر اور منصفانہ نظام قائم کرنا ہے۔ پی سی بی کے مطابق یہ ماڈل کھلاڑیوں کو اپنی مخصوص مہارتوں پر توجہ مرکوز کرنے، بہتر مالی مواقع حاصل کرنے اور قومی ٹیم کی مجموعی کارکردگی کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔ماہرین کرکٹ کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان کرکٹ میں ایک بڑی پالیسی تبدیلی ہے جو مستقبل میں کھلاڑیوں کے کیریئر پلاننگ، دستیابی اور بین الاقوامی و فرنچائز کرکٹ کے درمیان توازن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔














