لاہور ( پنجاب پوسٹ ) دیہی پنجاب میں خواتین کی نمائندگی اور انتظامی انصاف سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا ایک اہم فیصلہ سامنے آیا ہے۔ عدالت نے خاتون امیدوار کو برادری کی ذیلی تقسیم کی بنیاد پر لمبر داری سے محروم کرنے کے اقدام کو غیر قانونی اور امتیازی قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کے احکامات کالعدم کر دیے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ خواتین کو دیہی انتظامیہ میں نمائندگی سے روکنے والا کوئی قانون موجود نہیں۔
لودھراں کے نواحی گاؤں میں نمبر داری کے تنازع نے خواتین کی نمائندگی اور انتظامی انصاف سے متعلق ایک اہم قانونی بحث کو جنم دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے سماعت کے بعد خاتون امیدوار کلثوم اختر کی درخواست منظور کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر لودھراں اور ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب کے وہ احکامات کالعدم قرار دے دیے جن کے تحت انہیں لمبر داری کے لیے نااہل قرار دیا گیا تھا۔
پنجاب میں پنکی کی طاقت : کوکین کوئین کتنی طاقتور تھی ؟ پنجاب میں کتنے مقدمات ہیں ؟ کارروائی کیوں نہ ہوسکی ؟ سول سوسائٹی نیٹ ورک معاملے میں کیوں کود پڑا ؟: لودھراں کی کلثوم اختر نے پنجاب میں خواتین کی سیاسی نمائندگی پربولے جانے والے جھوٹ کو کیسے بے نقاب کیا؟
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ “خواتین کے خلاف کسی بھی قسم کا تعصب قابل قبول نہیں” کوئی قانون عورت کو دیہی انتظامیہ میں نمائندگی سے نہیں روکتا جبکہ خواتین کی شمولیت آئینی مساوات اور منصفانہ طرز حکمرانی کو مضبوط بناتی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ریونیو حکام نے کلثوم اختر کو برادری کی ذیلی تقسیم کی بنیاد پر “غیر اکثریتی کمیونٹی” قرار دے کر کم نمبر دیے، حالانکہ ان کے والد مرحوم نواب دین اسی گاؤں کے مستقل لمبر دار رہے تھے۔
عدالت نے قرار دیا کہ “کمیونٹی” سے مراد بنیادی برادری ہوتی ہے، نہ کہ اس کی لامتناہی ذیلی تقسیم۔ عدالت نے قرار دیا کہ انتظامیہ ایک ہی برادری کو مزید چھوٹے خانوں میں تقسیم کر کے کسی امیدوار کو نااہل قرار نہیں دے سکتی۔ لہذا برادری کی ذیلی تقسیم پر زیرو نمبر دینا غیر قانونی عمل تھا”۔ فیصلے میں کہا گیا کہ کلثوم اختر 2002 سے سربراہ لمبر دار کے طور پر خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔ تجربے، خاندانی پس منظر اور انتظامی امور سے واقفیت کی بنیاد پر وہ سب سے موزوں امیدوار تھیں۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو 30 روز میں کلثوم اختر کی بطور مستقل لمبر دار تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ دیہی پنجاب میں خواتین کی نمائندگی اور انتظامی فیصلوں میں مساوی مواقع سے متعلق ایک اہم نظیر بن سکتا ہے۔











ایک تبصرہ برائے “لودھراں کی کلثوم اختر نے پنجاب میں خواتین کی سیاسی نمائندگی پربولے جانے والے جھوٹ کو کیسے بے نقاب کیا؟”
[…] مزید پڑھیں: لودھراں کی کلثوم اختر نے پنجاب میں خواتین کی سیاسی نمائ… […]