خانیوال، ریپ کے جھوٹے مقدمات درج کرنیوالا گروہ پولیس نے کیسے بے نقاب کیا؟

خانیوال(پنجاب پوسٹ ) خانیوال میں ریپ کے مبینہ جھوٹے مقدمات درج کروانے والے گروہ کے خلاف پولیس کا کریک ڈاؤن مزید تیز کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے اینٹی ریپ ایکٹ کے تحت مزید سات نئی ایف آئی آرز درج کرتے ہوئے آپریشن کو ہائی الرٹ اسٹیٹس پر منتقل کر دیا ہے۔
ڈی پی او محمد عابد کے مطابق یہ ایک انٹیلی جنس بیسڈ ٹارگٹڈ آپریشن ہے، جس میں ہر کیس کی الگ سے سکریننگ، ویری فکیشن اور گراؤنڈ اسیسمنٹ کی گئی۔ شواہد کی بنیاد پر کئی مقدمات کو دوبارہ کھولا گیا جبکہ جھوٹے بیانیے بے نقاب ہونے کے بعد قانونی کارروائی شروع کی گئی۔

تمام مقدمات پولیس فارم 24-5(1) کے تحت درج کیے گئے ہیں جبکہ اینٹی ریپ ایکٹ 2021 کی دفعات 22-2 اے اور 22-2 بی کے ساتھ تعزیرات پاکستان کی دفعات 182، 213 اور 427 بھی شامل کی گئی ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق تھانہ حویلی کورنگا، سرائے سدھو، صدر کبیر والا، سٹی کبیر والا اور سٹی خانیوال میں درج مختلف مقدمات کی تحقیقات کے دوران کئی مدعیان نے عدالت اور پولیس کے سامنے اپنے الزامات سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے مقدمات کو غلط یا بے بنیاد قرار دیا۔ حکام کے مطابق متعدد کیسز میں بیانات اور زمینی حقائق میں واضح تضاد سامنے آیا، جس کے بعد کارروائی کو مزید وسعت دی گئی

۔پولیس کا کہنا ہے کہ زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت جاری اس آپریشن میں کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی اور قانون کا غلط استعمال کرنے والوں کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق مزید کیسز کی نشاندہی ہو چکی ہے جبکہ آنے والے دنوں میں مزید مقدمات درج ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے