مسلم لیگ ن میں خواتین کیوں نہیں آرہی تھیں؟ وزیر اعلیٰ پنجاب نے کیا وجہ بتائیں؟

لاہور ( پنجاب پوسٹ)وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ ان کی اولین ترجیح خواتین کے لیے ایک محفوظ پنجاب بنانا ہے جہاں ہر خاتون بلا خوف و خطر، اعتماد اور تحفظ کے ساتھ گھر سے باہر نکل سکے اور اسے ہراسانی یا بدسلوکی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

یہ بھی پڑھیں : پنجاب حکومت کا بڑا فیصلہ ، میٹرک پاس خواتین مفت لیپ ٹاپ اور ماہانہ وظیفہ کیسے حاصل کرسکتی ہیں ؟: مسلم لیگ ن میں خواتین کیوں نہیں آرہی تھیں؟ وزیر اعلیٰ پنجاب نے کیا وجہ بتائیں؟

مریم نواز نے کہا کہ چند سال قبل تک مسلم لیگ ن میں خواتین فرنٹ لائن سیاست میں کم دکھائی دیتی تھیں، تاہم آج صورتحال بدل چکی ہے اور وہ خود اس تبدیلی کی ایک مثال ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مریم اورنگزیب اور عظمیٰ بخاری سمیت متعدد خواتین سیاست اور حکومتی امور میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں جبکہ صوبے کے کئی اہم اداروں کی قیادت بھی خواتین کے پاس ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ڈگری کا حصول زندگی کے سفر کا اختتام نہیں بلکہ عملی زندگی کے نئے مرحلے کا آغاز ہے، اور خواتین کے بغیر معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ لکھی ہوئی تقریر کے بجائے دل کی بات کرنا پسند کرتی ہیں اور نوجوانوں کو درپیش چیلنجز سے آگاہ ہیں، حکومت ان مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ ان کی حکومت کا خاص فوکس خواتین کے تحفظ پر ہے اور اگر کسی خاتون کے ساتھ ہراسانی، چھیڑ چھاڑ، زیادتی یا بے حرمتی کا واقعہ پیش آئے تو وہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گی جب تک ذمہ دار عناصر قانون کے کٹہرے میں نہ آ جائیں۔

قبل اززیں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اپنی مادرِ علمی لاہور کالج فار وومن یونیورسٹی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے یونیورسٹی کے 21ویں کانووکیشن میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔

یونیورسٹی آمد پر وزیراعلیٰ کا پرتپاک استقبال کیا گیا جبکہ تقریب کا آغاز قومی ترانے اور تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا۔ وائس چانسلر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے استقبالیہ خطاب کیا جبکہ صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔

یہ بھی پڑھیں:لاہور میں خواتین جیپ تراش سرگرم، عید سے قبل بڑا گروپ کیسے گرفتار ہوا؟: مسلم لیگ ن میں خواتین کیوں نہیں آرہی تھیں؟ وزیر اعلیٰ پنجاب نے کیا وجہ بتائیں؟

کانووکیشن کے دوران بی ایس، ایم ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز کی 4609 طالبات اور اسکالرز میں ڈگریاں تقسیم کی گئیں، جبکہ 716 طالبات کو مختلف گولڈ، سلور اور برونز میڈلز سے نوازا گیا۔

تقریب میں طالبات نے ویمن ایمپاورمنٹ پر مبنی خصوصی نغمہ بھی پیش کیا۔ ہیڈ گرل سیدہ زینب عباس نے وزیراعلیٰ کی آمد پر ویلکم نوٹ پیش کیا۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے خطاب کرتے ہوئے سائبر کرائم اور سائبر بلیک میلنگ کے سدباب کے لیے جلد ڈیجیٹل سسٹم متعارف کرانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے یونیورسٹی میں اسٹیٹ آف دی آرٹ گرلز ہاسٹل، انڈور سپورٹس جمنازیم اور ایڈوانس ٹیک ٹاور کے قیام کا بھی اعلان کیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ کا اسی تعلیمی ادارے سے تعلق ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ سیاست میں آئیں گی، تاہم وقت اور حالات نے انہیں اس میدان میں آنے کا موقع دیا۔

وائس چانسلر کے مطابق وزیراعلیٰ نے یونیورسٹی کی گرانٹ بڑھا کر 600 ملین روپے کر دی ہے۔ تقریب کے اختتام پر ایک طالبہ نے وزیراعلیٰ کو ان کا ہینڈ میڈ پورٹریٹ پیش کیا جبکہ انہیں زمانہ طالب علمی کی تصویر بھی پیش کی گئی۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے