لاہور( پنجاب پوسٹ) غیر ملکی خواتین سے مبینہ زیادتی اور اغوا کے مقدمے میں پولیس نے سیشن کورٹ میں نامکمل چالان جمع کرا دیا۔ چالان کے مطابق پانچ ملزمان کو زیادتی کے الزام سے بری قرار دیا گیا ہے، تاہم ان کے خلاف خواتین کو حبسِ بے جا میں رکھنے اور بھتہ خوری کے الزامات شامل ہیں۔
پنجاب پوسٹ نے مقدمے کے چالان کی کاپی حاصل کر لی ہے۔ پولیس کے مطابق تین کم تنخواہ دار ملازمین پر خواتین سے زیادتی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ مقدمہ تھانہ ڈیفنس سی میں ایف آئی آر نمبر 1560/26 کے تحت اغوا، زیادتی، شواہد مٹانے اور دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا۔
چالان میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ خواتین سے مبینہ طور پر 19 ہزار 500 امریکی ڈالر زبردستی منتقل کرائے گئے اور انہیں ڈیفنس فیز سیون کے ایک گھر میں قید رکھا گیا۔ الزام ہے کہ مسلح افراد نے انہیں چاقو، پستول اور ٹوٹے ہوئے شیشوں کے ذریعے دھمکایا۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق یکم جولائی کو کار حادثے کے بعد خواتین وہاں سے فرار ہو گئیں، جبکہ بھٹہ چوک کے قریب پیش آنے والے حادثے کا الگ مقدمہ بھی درج کیا گیا۔ پولیس نے مقدمے میں 43 لاکھ روپے برآمد کرنے، موبائل فون اور گاڑی قبضے میں لینے کا ذکر کیا ہے۔
چالان کے مطابق پستول اور رائفل کی برآمدگی پر اسلحہ آرڈیننس کے تحت الگ مقدمات بھی درج کیے گئے۔ ملزمان پر خواتین کو گھر کرائے پر دینے اور ایک ملزم پر شواہد مٹانے میں معاونت کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔
پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹس تاحال موصول نہیں ہوئیں، جس کے باعث مزید تاخیر سے بچنے کے لیے پولیس نے نامکمل چالان عدالت میں جمع کرایا ہے۔
سیشن جج رفاقت علی گوندل نے چالان کی نقول ملزمان میں تقسیم کر دیں۔ کیس کی آئندہ سماعت 11 نومبر کو مقرر کی گئی ہے۔
دوسری جانب وکیلِ صفائی نے پولیس کی تفتیش پر اعتراض اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس اصل ملزمان کو تحفظ دے رہی ہے۔ وکیل کے مطابق ان کے موکل کم تنخواہ دار ملازمین ہیں جنہیں مقدمے میں قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔









