لاہور ( پنجاب پوسٹ ) پنجاب حکومت نے صوبے میں بجلی سے لگنے والی آگ، شارٹ سرکٹ اور کرنٹ کے حادثات کی روک تھام کے لیے برقی حفاظتی نظام میں جامع اصلاحات کی تیاری کرلی۔
مجوزہ پنجاب الیکٹریکل سیفٹی آرڈر 2026ء کے تحت 73 ہزار سے زائد صنعتی، تجارتی اور عوامی عمارتوں کے بجلی کنکشنز کی سالانہ حفاظتی جانچ، الیکٹریکل کنٹریکٹرز کی نگرانی اور حفاظتی سرٹیفکیٹس کی ڈیجیٹل تصدیق کا نظام متعارف کرانے کی تجویز ہے۔
مجوزہ اصلاحات کے مطابق ہسپتالوں، سکولوں، سینما گھروں، ہوٹلوں، پلازوں اور کثیر المنزلہ عمارتوں کی بجلی کی حفاظتی جانچ منظور شدہ لوڈ سے قطع نظر کی جاسکے گی، جبکہ الیکٹریکل کنٹریکٹرز کے لائسنس کے حصول کے لیے 14 جدید ٹیسٹنگ آلات لازمی قرار دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2023ء سے ستمبر 2026ء تک پنجاب میں شارٹ سرکٹ سے آتشزدگی کے 41 ہزار 975 واقعات جبکہ بجلی کے جھٹکے لگنے کے 48 ہزار 337 کیسز رپورٹ ہوئے۔
مجوزہ منصوبے کے تحت بجلی کی حفاظتی جانچ کا دائرہ موجودہ 21 ہزار 125 مقامات سے بڑھا کر 73 ہزار سے زائد مقامات تک پھیلایا جائے گا، جس کے لیے صنعتی عمارتوں میں معائنے کی حد 100 کلوواٹ سے کم کرکے 50 کلوواٹ سے زائد جبکہ تجارتی اور عوامی عمارتوں کے لیے 25 کلوواٹ سے زائد بجلی کے لوڈ کی تجویز دی گئی ہے۔
مجوزہ نظام کا مقصد بجلی سے متعلق ممکنہ خطرات کی حادثات سے پہلے نشاندہی اور ناقص برقی تنصیبات کی بروقت اصلاح یقینی بنانا ہے۔












