وہاڑی (پنجاب پوسٹ) بورے والا صدام ٹاؤن کا رہائشی طلحہ شوکت نوجوان یونان جانے کا خواب لیے مبینہ انسانی اسمگلروں کے ہتھے چڑھ گیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق نوجوان کی رہائی کے لیے ساڑھے چھ لاکھ روپے طلب کیے جا رہے ہیں۔
نوجوان گزشتہ تین سال سے اسلام آباد میں جہلم کے ایک نوجوان کے ساتھ سیلنگ کا کام کر رہا تھا۔ دونوں نے بہتر مستقبل کی امید میں یونان جانے کا منصوبہ بنایا اور مبینہ طور پر کوئٹہ کے ایک ایجنٹ کے جھانسے میں آ گئے۔
یہ بھی پڑھیں:پولیس کی موبائل ایپ نے تین سال سے لاہور میں چھپے انسانی اسمگلرز کیسے گرفتار کروائے؟
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ جہلم کا نوجوان رقم ادا کرکے سرحد پار کر گیا، جبکہ بورے والا کا نوجوان مبینہ طور پر ڈیلروں کے قبضے میں ہے۔ نوجوان نے فون پر گھر والوں کو بتایا کہ رہائی کے لیے ساڑھے چھ لاکھ روپے مانگے جا رہے ہیں اور رقم ادا نہ کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
متاثرہ خاندان کے مطابق وہ انتہائی غریب ہے اور اتنی بڑی رقم ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ اہلِ خانہ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر نوجوان کی بحفاظت بازیابی یقینی بنائی جائے اور مبینہ انسانی اسمگلروں کے خلاف کارروائی۔














