ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نوجوان نے پنجاب کے تعلیمی نظام کو بہترین کیسے ثابت کیا؟

ٹوبہ ٹیک سنگھ چک 252 کے اسید رفیق نے تمام اعداد و شمار، پراپیگنڈوں اور منفی تبصروں کو اپنی ایک ہی کامیابی کی بدولت غلط ثابت کر دیا ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ پنجاب کے ان اضلاع میں شمار ہوتا ہے جو بظاہر پسماندہ ہیں یا پراپیگنڈا کے مطابق پنجاب حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں لیکن اسید رفیق نے ان تمام پراپیگنڈوں غلط ثابت کر دیا ہے۔

پورے پاکستان میں سی ایس ایس جیسے مشکل ترین امتحان میں پہلی پوزیشن اسید رفیق نے حاصل کی ہے۔ وہی اسید رفیق جس کا تعلق ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ہے، وہی ٹوبہ ٹیک سنگھ جسے پسماندہ کہا جاتا رہا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے فلم سٹی جیسے پراجیکٹ کو اس بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا کہ پنجاب حکومت نے تعلیمی بجٹ میں کٹوتی کی ہے تاہم حالیہ سی ایس ایس نتائج اس دعوے کو غلط ثابت کر رہے ہیں۔

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ سی ایس ایس جیسے امتحان میں ہمیشہ پنجاب کی برتری ہی کیوں رہتی ہے؟ اس کا جواب جاننے کے لئے چند چیزوں کا بغور مشاہدہ کرنا ہوگا۔

فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے تازہ نتائج کے مطابق اس سال 12,792 امیدواروں میں سے صرف 355 تحریری امتحان میں کامیاب قرار پائے جبکہ 170 امیدواروں کو حتمی طور پر سروسز کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ تحریری امتحان پاس کرنے والے 355 امیدواروں میں سے تقریباً 268 امیدوار پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں یعنی دو تہائی سے بھی زائد کامیاب امیدوار پنجاب سے ہیں۔ اسی طرح حتمی طور پر منتخب ہونے والے 170 امیدواروں میں سے تقریباً 105 سے 110 امیدوار پنجاب سے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ٹاپ 30 میں سے 23 امیدواروں کا تعلق بھی پنجاب سے ہے۔

یہ ایک تسلسل ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ سی ایس ایس جیسے مقابلہ جاتی امتحان میں کامیابی کا تعلق صرف انفرادی صلاحیت سے نہیں بلکہ ایک مضبوط تعلیمی و سماجی ڈھانچے سے بھی ہے۔

پنجاب کی برتری کو سمجھنے کے لیے اس کے تعلیمی نظام پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ صوبے کے بڑے شہری مراکز خصوصاً لاہور اور راولپنڈی میں ایسے تعلیمی ادارے موجود ہیں جو طلبہ کو نہ صرف نصابی علم فراہم کرتے ہیں بلکہ تجزیاتی سوچ، تنقیدی تحریر اور انگریزی زبان پر عبور بھی سکھاتے ہیں جو سی ایس ایس امتحان کی بنیادی ضروریات ہیں۔

اسی طرح پنجاب کے دور افتادہ علاقوں میں تعلیمی ڈھانچہ بہتر کرنا موجودہ حکومت کی بڑی کامیابی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہاں سی ایس ایس کی تیاری ایک منظم ‘ایکو سسٹم’ کی صورت اختیار کر چکی ہے جس میں کوچنگ اکیڈمیز، سابق بیوروکریٹس کی رہنمائی اور امیدواروں کے باہمی نیٹ ورکس شامل ہیں۔

اس کے برعکس، بلوچستان، اندرون سندھ اور خیبرپختونخوا کے کئی علاقوں میں یہ سہولتیں محدود ہیں۔ نتیجتاً وہاں کے امیدواروں کو امتحانی تیاری کے دوران وہ معاونت میسر نہیں آتی جو پنجاب کے شہری علاقوں میں دستیاب ہے۔ یہی فرق نتائج میں واضح برتری کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

سی ایس ایس 2025 کے نتائج کو اگر حکومتی کارکردگی کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ کہنا بجا ہوگا کہ یہ مکمل طور پر حالیہ حکومت کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ حقیقت اس سے زیادہ پیچیدہ بھی ہوسکتی ہے۔ سی ایس ایس جیسے امتحانات میں کامیابی ایک طویل المدتی تعلیمی سفر کا حاصل ہوتی ہے جو سکول سے لے کر یونیورسٹی تک کئی برسوں پر محیط ہوتا ہے۔ اس لیے موجودہ نتائج دراصل مختلف ادوار کی پالیسیوں، خصوصاً پنجاب میں گزشتہ دہائی کے دوران تعلیمی اصلاحات کا مجموعی عکس ہیں۔

تاہم حالیہ برسوں میں کچھ اقدامات ایسے ضرور ہوئے ہیں جنہوں نے اس برتری کو برقرار رکھنے یا مستحکم کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ مثال کے طور پر پنجاب میں سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے تحت مانیٹرنگ سسٹمز، اساتذہ کی حاضری اور کارکردگی پر نظر اور نصابی ہم آہنگی جیسے اقدامات نے بنیادی تعلیم کے معیار کو نسبتاً بہتر کیا۔ اسی طرح ہائر ایجوکیشن کمیشن کی سطح پر ریسرچ اور یونیورسٹی گورننس میں بہتری کی کوششیں اور بعض سرکاری و نجی اداروں میں میرٹ پر داخلوں کا بڑھتا رجحان ایک ایسا تعلیمی ماحول بناتے ہیں جہاں سے سی ایس ایس جیسے امتحانات کے لیے بہتر طور پر تیار امیدوار سامنے آتے ہیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے