قتل کیس میں اہم پیش رفت، عمر قید پانے والا ملزم 6 سال بعد بری، لاہور ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمے میں عمر قید کی سزا پانے والے ملزم سفیان عرف جگا کو چھ سال بعد بری کرنے کا حکم دے دیا۔ جسٹس فاروق حیدر نے ملزم کی سزا کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ عدالت نے مقدمہ درج کرنے میں غیر معمولی تاخیر اور گواہوں کے بیانات میں تضادات سمیت تفتیشی خامیوں کو ملزم کی بریت کی بنیاد بنایا۔

تحریری فیصلے کے مطابق ملزم کے خلاف تھانہ سیالکوٹ پولیس نے 16 مئی 2020 کو مقدمہ درج کیا، جبکہ واقعہ 13 مئی 2020 کو پیش آیا تھا، جس میں رحمان علی زخمی ہوا اور 19 مئی 2020 کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پرتگال بھجوانے کا جھانسہ، 20 لاکھ 50 ہزار روپے ہتھیانے کا الزام، لاہور ہائیکورٹ کا باپ بیٹے کی ضمانت پر فیصلہ

عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ واقعے کے تین روز بعد مقدمہ درج کرنے میں ہونے والی غیر معمولی تاخیر کی کوئی ٹھوس وجہ سامنے نہیں آ سکی۔ موقع پر موجود گواہوں اور مدعی کے بیانات میں بھی واضح تضاد پایا گیا۔

تحریری فیصلے کے مطابق گواہوں کے خون آلود کپڑے تفتیشی افسر کے حوالے نہیں کیے گئے، جبکہ مقتول جس گدھا گاڑی پر چارہ لینے گیا تھا، اسے بھی محفوظ نہیں کیا گیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے مقدمے کے شواہد اور تفتیشی خامیوں کا جائزہ لینے کے بعد ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم سفیان عرف جگا کو بری کرنے اور رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے