ساہیوال (پنجاب پوسٹ) دورے کے دوران انکشاف ہوا کہ کارڈیک پروسیجرز کے منتظر مریضوں کی بڑی تعداد موجود ہے، جبکہ کارڈیک وارڈ کے آئی سی یو میں صرف ایک مریض داخل تھا۔ ساہیوال انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں مریضوں کی بڑی تعداد کے باوجود دستیاب طبی سہولیات کے مؤثر استعمال پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔
سیکرٹری اسپیشلائزڈ ہیلتھ پنجاب نے دوپہر ڈیڑھ بجے اینڈوسکوپی یونٹس خالی پائے جانے اور مریضوں کی موجودگی کے باوجود دوپہر دو بجے سے پہلے ہسپتال کے متعدد بلاکس بند ہونے پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔ مریض علاج کے لیے باہر انتظار کرتے رہے، جبکہ بجلی کے نظام اور فائر سیفٹی کے معاملات پر ہسپتال انتظامیہ کے عدم تعاون پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔
سیکرٹری اسپیشلائزڈ ہیلتھ پنجاب عظمت محمود نے ہسپتال انتظامیہ کو فوری اصلاحی اقدامات کرنے، کارڈیک اور اینڈوسکوپی سہولیات مکمل فعال بنانے اور ڈیوٹی اوقات کی پابندی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ناقص انتظامات اور سامنے آنے والی خامیوں کی ذمہ داری کا تعین کرنے کا بھی حکم دیا۔
ساہیوال میڈیکل کالج کے پرنسپل کو تین روز میں جامع اصلاحی منصوبہ جمع کرانے جبکہ سات روز میں عمل درآمد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سیکرٹری اسپیشلائزڈ ہیلتھ پنجاب نے واضح کیا کہ سرکاری ہسپتال عملے کی سہولت کے مطابق نہیں چل سکتے بلکہ مریضوں کو بلا تعطل علاج اور طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔










