لاہور(پنجاب پوسٹ) پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر نے لاہور پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے فوڈ سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے گندم کا ریٹ 4500 روپے فی من مقرر کرنے کے فیصلے سے کسانوں میں امید کی نئی کرن پیدا ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم گندم کا مقدمہ پیش کر رہے تھے اور گندم ہماری تمام فصلوں کا انجن ہے۔ ان کے مطابق نیشنل ایگریکلچرل کونسل کی جانب سے گندم کے لیے 4500 روپے فی من کی قیمت تجویز کی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو تین سال کسانوں کے لیے انتہائی مشکل رہے، جب گندم 3000 سے 3500 روپے فی من میں فروخت ہوئی، تاہم اب کسانوں کو 4500 روپے فی من گندم فروخت کرنے کی امید لگ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں مشینری مینوفیکچرنگ پر 10سال تک ٹیکس نہ لگانے کی تجویز، فائدہ کیا ہوگا؟
خالد محمود کھوکھر نے کہا کہ ملک میں پانی کی کمی ہو رہی ہے اور پنجاب میں زمینی پانی کی سطح 22 فیصد کم ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں پیداوار میں کمی آ رہی ہے، اس لیے ہمیں اس صورتحال کے لیے تیار ہونا پڑے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ سال 23 لاکھ 90 ہزار ٹن ڈی اے پی کھاد استعمال ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ گنے کی کاشت 16 فیصد زیادہ ہو گئی ہے جس سے کسان پریشان ہے۔ ان کے مطابق مقرر کردہ ریٹ سے امید ہے کہ آلو کی کاشتکاری میں کمی آئے گی، جس سے کسان کو آلو کی اچھی قیمت مل سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ گندم میں ڈیمانڈ اور سپلائی کی کمی کے مسائل موجود ہیں اور اگلے سال باہر سے گندم نہیں ملے گی۔
کسان رہنما نے کہا کہ اگر تمام صوبے اس فیصلے پر عمل درآمد کریں تو بہت اچھا ہو گا، اس سے زراعت کا شعبہ بہتر ہو گا کیونکہ پاکستان کی معیشت کا دارومدار زراعت پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسان 24 گھنٹے کام کرتا ہے اور دن رات آندھی طوفان میں محنت کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود کاشتکار خود پریشان ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تجویز کردہ ریٹ سے کسانوں کی مشکلات میں کمی آئے گی۔










