لاہور: صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع نے انٹرنیشنل پولٹری ایکسپو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کی چین کے ساتھ جدید زرعی مشینری کے حوالے سے بات چیت جاری ہے، کوشش ہے کہ مشینری کی مینوفیکچرنگ پاکستان میں ہی ہو اور اس پر 10 سال تک کوئی ٹیکس نہ لگے۔
چوہدری شافع نے کہا کہ ہر سال لوکل کمپنیوں کی فیڈ، لیئر اور ایکویپمنٹ کے سٹالز لگائے جاتے ہیں، اس طرح کی ایکسپو سے آگاہی اور تعلق بنتا ہے۔ انٹرنیشنل پولٹری ایکسپو میں جانوروں کی ادویات کے حوالے سے 26 کمپنیاں بھی شریک ہوئی ہیں۔
صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ مرغی پروٹین کا سستا ذریعہ ہے، سویا بین پولٹری فیڈ کے لیے درآمد کیا جاتا ہے، فیصل آباد میں سویا بین پر ریسرچ شروع کردی گئی ہے۔ کینیڈا، امریکا اور ارجنٹائن سویا بین پیدا کرنے والے بڑے ممالک ہیں، سویا بین سستی ملے گی تو لاگت کم ہوگی اور مرغی کی قیمت بھی نیچے آئے گی۔ اس حوالے سے وفاق اور پنجاب حکومت سے بات چیت جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے دو ماہ قبل انڈسٹریل اسٹیٹس کے ریٹس مزید کم کیے ہیں، جبکہ سابق حکومتوں میں ریٹس بڑھتے رہے ہیں۔ کنٹرولڈ شیڈز کو کمرشل چارجز کے بجائے ایگریکلچر ریٹ پر لانے کے لیے بھی بات چیت جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں آٹے کی فراہمی جاری، مارکیٹ میں قلت کی افواہیں بے بنیاد، ڈی جی فوڈ پنجاب
چوہدری شافع نے صنعتکاروں کو سولر پینلز پر منتقل ہونے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ مختلف بینک آسان اقساط پر سولر پینلز فراہم کر رہے ہیں۔
صوبائی وزیر صنعت و تجارت نے کہا کہ چینی سرمایہ کاری سے مقامی روزگار کے مواقع بڑھیں گے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار موبائل فونز کی مینوفیکچرنگ پاکستان میں ہونے جا رہی ہے جبکہ ٹو وہیلر الیکٹرک بائیکس کا مینوفیکچرنگ پلانٹ بھی لگنے جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جس صنعت نے ویسٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ نہ لگایا اسے انڈسٹری بند کرنی پڑے گی، گزشتہ تین سال سے سرمایہ کاری ہونا شروع ہوئی ہے۔
چوہدری شافع نے کہا کہ لانگ مارچ سے سرمایہ کار دوسرے ملکوں کا رخ کرنا شروع کردیں گے اور روزگار کے مواقع ملک سے باہر چلے جائیں گے۔ جو لوگ لانگ مارچ کررہے ہیں وہ بتائیں کہ انہوں نے اب تک اس صوبے کے لیے کیا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت کا موقف ہے کہ بڑی قربانیوں کے بعد یہ ملک ملا ہے، ہر ایک کو ملک کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ آپس میں لڑائی کروا کر اسے انجوائے نہیں کرنا چاہیے، مہذب معاشرے کی طرح بیٹھ کر مسائل حل کیے جاتے ہیں، ہر ایک کو اپنے صوبے کے بارے میں سوچنا چاہیے۔










