وفاقی کابینہ کا خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج دونوں لگانے کا فیصلہ

اسلام آباد (پنجاب پوسٹ) وفاقی کابینہ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج دونوں لگانے کا فیصلہ کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کی زیرِ صدارت کابینہ کمیٹی کے اہم ترین اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج دونوں لگانے کا فیصلہ کرلیا گیا ۔

ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور متصل علاقوں میں کابینہ کا ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ وفاقی کابینہ کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا ۔

ذرائع کے مطابق شدید بد امنی کا شکار بارہ اضلاع کے معاملے کو ایمرجنسی کی نفاذ کے بعد الگ سے دیکھا جائے گا، گورنر فیصل کریم کنڈی ہی نئی ذمہ داریاں انجام دینگے ۔

صورتحال کے پیش نظر اسلام آباد میں ریڈ زون، ڈی چوک سمیت شہر بھر میں 6 ہزار اہلکار تعینات کئے گئے ہیں ۔وفاقی کابینہ اجلاس کی وجہ سے سیکورٹی کو ہائی الرٹ رکھا گیا ہے
اسلام آباد میں کسی بھی قسم کے احتجاج پر پابندی عائد ہے۔

وزیراعظم کی زیرِ صدارت کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر مملکت طلال چودھری، امیر مقام، سید عمران شاہ، حنیف عباسی، معین وٹو، پرویز خٹک، احد چیمہ، مصطفٰی کمال اور ہارون اختر شریک ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گرد حملوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا ، افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر اور مقامی سہولت کاروں کے ساتھ صوبائی حکومت کی ناقص پالیسی اور دہشت گردوں کے لئے نرم گوشے نے خطرات میں اضافہ کیا۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات، سکیورٹی چیلنجز اور انتظامی صورتحال پر غور کرے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات ہوئی تھی ، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے