لاہور(پنجاب پوسٹ)علامہ اقبال میڈیکل کالج کے سوئمنگ پول میں ڈوب کر جان کی بازی ہار جانے والے تھرڈ ائیر کے طالبعلم عبداللہ مظہر کے حق میں طلبا و طالبات سراپا احتجاج بن گئے ہیں۔ طلبا نے واقعے کو انتظامی نااہلی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
احتجاجی طلبا و طالبات کا کہنا ہے کہ کالج کی پرنسپل پروفیسر طیبہ وسیم نے واقعے کی انکوائری کرانے کے بجائے احتجاج کرنے والے طلبا کو کالج سے نکالنے کی دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں۔ طلبا کے مطابق جناح اسپتال ہاسٹل کے مبینہ جعلی وارڈن اور آؤٹ سائیڈر ڈاکٹر احسن بھی احتجاجی طلبا کو ہاسٹل سے نکالنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
طلبا نے انکشاف کیا کہ کالج کے سوئمنگ پول کا کوئی سرکاری ٹھیکہ موجود نہیں، بلکہ کالج کے سکیورٹی گارڈز 300 سے 500 روپے فی کس وصول کر کے طلبا کو نہانے کی اجازت دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تیراکی کے دوران پول پر کوئی لائف گارڈ بھی تعینات نہیں ہوتا، اور عبداللہ مظہر کی موت انتظامی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
گزشتہ ایک ہفتے سے تھرڈ ائیر کے طلبا و طالبات نے کلاسز کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ احتجاجی طلبا نے پیٹرن سوئمنگ کلب، وارڈن اور آؤٹ سائیڈر ڈاکٹر احسن کو کالج سے نکالنے کے مطالبے کے علاوہ دیگر مطالبات بھی پیش کیے ہیں۔
طلبا کا کہنا ہے کہ پرنسپل علامہ اقبال میڈیکل کالج نے زبانی جمع خرچ کے سوا اب تک کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عبداللہ مظہر کی ناگہانی موت پر کارروائی نہ کی گئی تو احتجاج کا دائرہ کار وسیع کر دیا جائے گا۔















