کوٹلی ستیاں (پنجاب پوسٹ) چار دہائیوں کے طویل انتظار کے بعد جس بیسک ہیلتھ یونٹ سے علاقے کے غریب مکینوں نے بہتر علاج کی امیدیں وابستہ کی تھیں، اس کی مرمت بھی مبینہ ناقص میٹریل اور غفلت کی نذر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ تحصیل کوٹلی ستیاں کی یونین کونسل بھتیاں کے علاقے تھون میں قائم BHU کی بحالی کے نام پر پرانی بوسیدہ چادروں اور گلے سڑے لکڑی کے شہتیروں کو دوبارہ استعمال کرنے کا انکشاف ہوا ہے، جس پر اہلِ علاقہ میں شدید تشویش اور غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
مقامی شہریوں نے اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر کوٹلی ستیاں کو 19 اکتوبر 2024 کو باقاعدہ تحریری درخواست جمع کرائی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹھیکیدار نئی تعمیر کے بجائے 20 سال سے زائد پرانی، زنگ آلود اور خستہ حال چادریں اور لکڑی کے شہتیر دوبارہ نصب کر رہا ہے۔
عمارت کی خستہ حالی
درخواست کے مطابق BHU تھون کی عمارت 2004 سے پہلے تعمیر کی گئی تھی اور اس کے بعد کوئی بڑی مرمت نہیں ہوئی۔ چھت ہر بارش میں ٹپکتی ہے، دیواریں بوسیدہ ہو چکی ہیں اور عمارت کی حالت ایسی ہے کہ مریضوں اور طبی عملے کی جانوں کو خطرہ لاحق ہے۔
ایک کروڑ روپے کا بجٹ، مگر موقع پر الٹی صورتحال
شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومتِ پنجاب نے BHUs کی ری ویمپنگ کے لیے فی یونٹ تقریباً ایک کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ اس رقم سے نئے آہنی گارڈر، نئی GI چادریں، مکمل پلستر اور فلٹر کلینک طرز پر اپ گریڈیشن کی جانی ہے، تاہم موقع پر صورتحال اس کے برعکس ہے۔
الزام ہے کہ ٹھیکیدار محکمہ بلڈنگ کے BOQ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کام سے جان چھڑا رہا ہے اور پرانے میٹریل پر محض رنگ و روغن کر کے بل پاس کرانے کی کوشش میں ہے
شہریوں کا دکھ
ڈپٹی کمشنر مری اور اسسٹنٹ کمشنر کوٹلی ستیاں فوری طور پر BHU تھون کا دورہ کریں۔محکمہ بلڈنگ کی ٹیکنیکل ٹیم سے میٹریل کا باقاعدہ معائنہ کرایا جائے۔ٹھیکیدار کو پابند کیا جائے کہ پرانی چادریں اور لکڑی کے بالے اکھاڑ کر نئے آہنی گارڈر اور نئی چادریں نصب کرے۔کام کی تکمیل تک مقامی نگران کمیٹی کو شامل رکھا جائے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب سے اپیل
شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے بھی اپیل کی ہے کہ مریم نواز ہیلتھ کلینکس کے نام پر جاری اصلاحات کو کرپٹ ٹھیکیداروں سے بچایا جائے، بصورتِ دیگر غریب عوام کو صحت کی سہولت کے بجائے محض خستہ حال عمارتیں ہی ملیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:کوٹلی ستیاں میں حسد اور دشمنی کی بھینٹ چڑھنے والی ہائی ایس وین نذر آتش، لاکھوں کا نقصان















