لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ نے کیمرے اور ڈیوائس لگی عینکوں کی مارکیٹ میں عام فروخت کے خلاف درخواست پر سیکرٹری کامرس سمیت دیگر متعلقہ حکام کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے خاتون نادرہ بی بی کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے شہرام ساقی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ وفاقی سیکرٹری کامرس، سیکرٹری داخلہ، چیئرمین بورڈ آف ریونیو اور ممبر کسٹمز نے تاحال جواب جمع نہیں کرایا۔ عدالت نے پی ٹی اے کو جواب داخل کرانے کے لیے 15 اکتوبر تک مہلت دے دی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مارکیٹ میں بڑی بڑی شاپس اور سپر اسٹورز پر کیمرے لگی عینکیں فروخت کی جا رہی ہیں، ان گلاسز کے ذریعے ہر قسم کی خفیہ ریکارڈنگ ممکن ہے اور یہ عینکیں سیکیورٹی رسک ہیں۔
درخواست گزار کے مطابق کیمرے لگی عینکوں کی فروخت کے لیے کسی حکومتی ادارے سے منظوری نہیں لی گئی۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ سیکیورٹی رسک بننے والی ان عینکوں کی فروخت پر فوری پابندی عائد کی جائے اور ذمہ دار اداروں سے اس معاملے پر وضاحت طلب کی جائے۔













