پنجاب سے 500 لڑکیاں لاپتہ ،پولیس کا خیال ہوتا ہے کہ لڑکیاں خود کہیں چلی گئیں, چیف جسٹس عالیہ نیلم

لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور ہائیکورٹ میں لاپتہ لڑکیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پولیس کی کارکردگی پر شدید اظہارِ عدم اطمینان کرتے ہوئے لاپتہ لڑکیوں کے 500 مقدمات میں پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت انہوں نے ریمارکس دیے کہ پانچ سو مقدمات بہت زیادہ ہیں اور استفسار کیا کہ کیا ان میں سے لڑکیاں برآمد بھی ہوئی ہیں؟ انہوں نے پولیس سے سوال کیا کہ لڑکیوں کی بازیابی کے لیے کیا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے پولیس افسران سے کہا کہ کبھی ایک لمحے کے لیے سوچا ہے کہ بچی گھر پر نہ ہو تو والدین پر کیا گزرتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ پولیس لڑکیوں کے مقدمات میں ایک مخصوص سوچ رکھتی ہے اور اس کا خیال ہوتا ہے کہ لڑکی خود کہیں چلی گئی ہوگی۔ ان کے مطابق پولیس کے اسی رویے کی وجہ سے تفتیش آگے نہیں بڑھ پاتی۔

آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ لڑکیوں کے مقدمات کے لیے کمیٹیاں بنائی گئی ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کمیٹیاں بنانے کے باوجود یہی نتیجہ سامنے آیا ہے۔

آئی جی پنجاب نے مزید بتایا کہ مقدمے کی تفتیش روکنے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کو غفلت کے معاملے کی انکوائری کا حکم دیا گیا ہے، اور اگر غفلت ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

سماعت کے دوران آئی جی پنجاب نے لاپتہ لڑکی کو بازیاب کراکے عدالت میں پیش بھی کردیا۔ عدالت نے درخواست گزار کی جانب سے کیس واپس لینے کی استدعا مسترد کردی۔ واضح رہے کہ درخواست گزار خاتون سعدیہ نے اپنی بیٹی کی بازیابی کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے